واشنگٹن / ایری (پنسلوانیا): امریکہ میں چند گھنٹوں کے وقفے سے ماس شوٹنگ کے دو الگ الگ اور دل دہلا دینے والے واقعات میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پہلے واقعے میں پنسلوانیا کے شہر ایری (Erie) میں فائرنگ کے نتیجے میں حملہ آور سمیت 9 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ کچھ ہی دیر بعد جارجیا کے شہر ڈگلس (Douglas) میں ایک ہی گھر سے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ۔

پنسلوانیا کے شہر ایری میں پولیس کے مطابق ایک ہی گھر کے اندر فائرنگ کا یہ خونریز واقعہ پیش آیا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے اور ایک حامِلہ خاتون بھی شامل ہیں۔ ایری پولیس کے چیف رک لورا (Rick Lorah) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی 28 سالہ سروس کے دوران یہ ان کے کیریئر کا سب سے دل دہلا دینے والا اور سخت ترین منظر تھا۔ پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی تمام 9 افراد بشمول حملہ آور موقع پر دم توڑ چکے تھے۔ پولیس کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی متنازع گن شاٹ ڈیٹیکشن سسٹم ’شاٹ اسپاٹر‘ (ShotSpotter) کے ذریعے فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 45 سالہ ملزم نے اپنے رشتہ داروں کو نشانہ بنانے کے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔
جارجیا: ڈگلس کے گھر میں 5 افراد کا قتل
دوسری جانب جارجیا کے شہر ڈگلس کے ایک گھر میں پیش آنے والے واقعے میں پولیس نے فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ڈگلس پولیس چیف کے مطابق، فائرنگ کی اطلاع ملنے کے بعد جب ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ایک خاتون کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ بھی جانبر نہ ہو سکی۔ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ واقعہ بھی خانگی تنازع اور خودکشی پر مبنی قتل کا کیس معلوم ہوتا ہے۔ جاری سال میں 431 سے زائد ماس شوٹنگزان تازہ ترین واقعات کے ساتھ ہی امریکہ میں جاری سال کے دوران ماس شوٹنگز کے کل واقعات کی تعداد 431 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک میں گن وائلنس (اسلحہ کے تشدد) پر قابو پانے کے مطالبات میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جبکہ مقامی حکام اور گورنرز نے ان ہولناک واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

