لاہور: علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں تھرڈ ایئر کے طالب علم عبداللہ مظہر کی سوئمنگ پول میں جاں بحق ہونے کے واقعے کے خلاف طلبہ و طالبات نے شدید احتجاج کیا ہے۔
یہ پرزور احتجاج 30 ستمبر کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر کیا گیا، جہاں مبینہ انتظامی غفلت کے باعث طالب علم ڈوب کر جاں بحق ہو گیا تھا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل یہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ اس معاملے میں کالج کا نام استعمال نہ کیا جائے۔آج اس واقعے کی انکوائری رپورٹ سامنے آنی تھی، تاہم کالج انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ کو پبلک نہ کرنے اور طلبہ کے نمائندگان کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لینے کی دھمکی دی گئی، جس پر طلبہ نے غصے میں آ کر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔
مظاہرین کے دباؤ پر کالج انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد مطالبات کو سوموار تک ماننے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے تحتپروفیسر ارشاد ملک، جو کہ سوئمنگ کلب کے پیٹرن اور ہاسٹل وارڈن بھی ہیں، کو تمام انتظامی امور سے فوری طور پر برخاست کیا جائے گا۔ہاسٹل نمبر 2 اور لیکچر تھیٹر کا نام تبدیل کرکے شہید عبداللہ مظہر کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔انکوائری رپورٹ پبلش کی جائے گی اور تحقیقاتی کمیٹی میں 5 سے 6 طلبہ کو بھی شامل کیا جائے گا۔
کالج کے آفیشل پیج سے باضابطہ طور پر عبداللہ مظہر کی وفات کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔طلبہ و طالبات نے واضح کیا ہے کہ اگر سوموار تک یہ تمام مطالبات تسلیم اور نافذ نہ کیے گئے تو وہ دوبارہ بھرپور احتجاج کی کال دیں گے۔
علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور: سوئمنگ پول میں طالب علم کے جاں بحق ہونے پر طلبہ کا شدید احتجاج،

