تحریر :میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جب مذاکرات شروع ہوئے تو دو بنیادی نکات تھے وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کر دے اسلام آباد پر چڑھائی نہ کی جائے جبکہ تحریک انصاف فیس سیونگ کے لیے چاہ رہی تھی کہ عمران خان سے ملاقاتیں شیڈول ہو جائیں اور ان کو علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں یہ دونوں مطالبات کوئی اتنے گھمبیر نہ تھے کہ ان پر اتفاق رائے نہ ہو پاتا مذاکرات کے آغاز میں دونوں فریقین کی جانب سے جو رویے ظاہر کیے جا رہے تھے ان سے یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لہذا ان مذاکرات کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ طے ہو جائیں گے پوری قوم بھی یہی امید لگائے بیٹھی تھی کہ اللہ کرے افراتفری ختم ہو اور معاملات بہتری کی طرف چل پڑیں کیونکہ سیاسی چالبازیوں نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے ملک پچھلے چار سال سے غیر یقینی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ سے معاشی معاملات بھی تباہ ہو گئے ہیں مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے بے روزگاری عام ہو چکی ہے توانائی کے بحران نے رہتی سہتی کسر بھی نکال دی ہے صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے زندگی کی سانسیں بحال رکھنا مشکل ہو رہا ہے اس وجہ سے اس بار عام آدمی بھی دعا گو تھا کہ اللہ کرے سیاستدانوں کے معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ طے پا جائیں تاکہ حالات بہتر ہوں اور انھیں بھی سکھ کا سانس آ سکے لیکن بظاہر طے پاتے مذاکرات اچانک پچیدہ سے پچیدہ ہوتے چلے گئے مذاکرات کی میز پر مطالبات بڑھتے گئے عقل پر انائیں اورضدیں غالب آ گیں اور تمام فریقین نے بہتری کاموقع گنوا دیا مذاکرات کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ پہلے قابل قبول ماحول بنایا جاتا ہے پھر ان شقوں پر غور کیا جاتا ہے جن پر اختلافات کم ہوں ان پر اتفاق رائے کے بعد آگے بڑھا جاتا ہے اور سب سے آخر میں سب سے متنازعہ امور سامنے رکھے جاتے ہیں اگر معاملات کو افہام وتفہیم سے نمٹانے کی نیت ہو تو پھر کم از کم ایجنڈا پر اتفاق رائے کرکے متنازعہ امور کا حل ڈھونڈا جاتا ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دے کر سب سے پہلے لانگ مارچ ملتوی کرواتی جب لانگ مارچ ملتوی ہو جاتا کنٹینر ہٹ جاتے تحریک انصاف کے ورکرز گھروں کو چلے جاتے ان کا احتجاج کا موومینٹم ختم ہو جاتا پھر متنازعہ امور پر بات چیت کو آگے بڑھایا جاتا تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ موخر کر کے 4اکتوبر تک لانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ مذاکرات کو وقت دینا چاہتے تھے اور وہ کوئی مضبوط بہانہ ڈھونڈ کر لانگ مارچ ملتوی بھی کرنے کو تیار تھے وہ صرف فیس سیونگ چاہ رہے تھے جو انھیں نہیں دی گئی اب وہ سیاسی طور پر لانگ مارچ کے لیے مجبور ہیں اب وہ احتجاج بھی خیبر پختون خواہ میں ہی کرنا چاہتے ہیں لیکن اب وفاقی حکومت انھیں خیبر پختون خواہ میں بھی احتجاج نہیں کرنے دینا چاہ رہی یوں لگتا ہے کہ مذاکرات بھی ایک اتمام حجت تھا جو کرنا ہے اس کے فیصلے ہو چکے ہیں تحریک انصاف کو ریلیف دینے کا تاثر دے کر پہلے احتجاج کی طرف لایا گیا پھر مذاکرات کے ذریعے ان کی بےبسی واضح کی گئی اور اب ان کے خلاف کوئی فیصلہ کن اقدام اٹھانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا ہو گا کیا وفاقی حکومت خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی لگا کر تحریک انصاف کو ختم کر پائے گی کیا تحریک انصاف ایمرجنسی کے بعد ختم ہو جائے گی کیا خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی کے بعد دہشتگردی کا خاتمہ ہو جائے گا کیا ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کو پنجاب کی طرح خاموش کروا دیا جائے گا یہ ایسے سوالات ہیں جن کا کسی کے پاس بھی واضح جواب نہیں کیونکہ خیبر پختون خواہ میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حیثیت وہ نہیں ہے جو پنجاب یا سندھ میں ہے خیبر پختون خواہ کی اصل سیاسی قوتیں تحریک انصاف،جے یو آئی مولانا فضل الرحمن اور اے این پی ہیں مولانا فضل الرحمن اور اے این پی بھی ایمرجنسی کے خلاف ہیں اگر ایمرجنسی لگا کر تحریک انصاف کو دبانا مقصود ہے تو پھر مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کو خیبر پختون خواہ میں کردار دینا پڑے گا خیبر پختون خواہ میں دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے کسی سیاسی جماعت پر قدغن لگا کر شاید وہ نتائج حاصل نہ کیے جا سکیں جو وہاں کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سرداروں کو اعتماد میں لے کر متفقہ لائحہ عمل سے حاصل کیے جا سکتے ہیں بہرحال موجودہ صورتحال سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات مزید خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن کچھ لوگ بضد ہیں کہ ہم سب ٹھیک کر لیں گے مگر ایسا نہ ہو کہ جب تک سب ٹھیک ہو اس وقت تک عام آدمی جیتے جی مر چکا ہو


