Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پرانے اسمارٹ فونز کے صارفین ہوشیار! جلد واٹس ایپ کا استعمال بند ہونے کا امکان

      مریخ ؛ نئی تحقیق میں سائنس دانوں کا اہم انکشاف

      امریکا نے’سوپر انٹیلی جنس فورس’ تشکیل دیدی، NSA کے ڈائریکٹر جنرل جے کلیٹن سربراہ مقرر

      مستقبل کی جنگ کا نقشہ بدل گیا: امریکی فوج کا ہر سپاہی ڈیجیٹل ،جنگلوں میں جنگی مشقیں

      ذہین ترین ممالک، کون سا ملک ٹاپ پررہا?

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    مذاکرات ختم۔۔۔اب کیا ہو گا۔؟ میاں حبیب کا کالم

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر :میاں حبیب
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جب مذاکرات شروع ہوئے تو دو بنیادی نکات تھے وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کر دے اسلام آباد پر چڑھائی نہ کی جائے جبکہ تحریک انصاف فیس سیونگ کے لیے چاہ رہی تھی کہ عمران خان سے ملاقاتیں شیڈول ہو جائیں اور ان کو علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں یہ دونوں مطالبات کوئی اتنے گھمبیر نہ تھے کہ ان پر اتفاق رائے نہ ہو پاتا مذاکرات کے آغاز میں دونوں فریقین کی جانب سے جو رویے ظاہر کیے جا رہے تھے ان سے یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لہذا ان مذاکرات کے راستے میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ طے ہو جائیں گے پوری قوم بھی یہی امید لگائے بیٹھی تھی کہ اللہ کرے افراتفری ختم ہو اور معاملات بہتری کی طرف چل پڑیں کیونکہ سیاسی چالبازیوں نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے ملک پچھلے چار سال سے غیر یقینی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ سے معاشی معاملات بھی تباہ ہو گئے ہیں مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے بے روزگاری عام ہو چکی ہے توانائی کے بحران نے رہتی سہتی کسر بھی نکال دی ہے صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے زندگی کی سانسیں بحال رکھنا مشکل ہو رہا ہے اس وجہ سے اس بار عام آدمی بھی دعا گو تھا کہ اللہ کرے سیاستدانوں کے معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ طے پا جائیں تاکہ حالات بہتر ہوں اور انھیں بھی سکھ کا سانس آ سکے لیکن بظاہر طے پاتے مذاکرات اچانک پچیدہ سے پچیدہ ہوتے چلے گئے مذاکرات کی میز پر مطالبات بڑھتے گئے عقل پر انائیں اورضدیں غالب آ گیں اور تمام فریقین نے بہتری کاموقع گنوا دیا مذاکرات کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ پہلے قابل قبول ماحول بنایا جاتا ہے پھر ان شقوں پر غور کیا جاتا ہے جن پر اختلافات کم ہوں ان پر اتفاق رائے کے بعد آگے بڑھا جاتا ہے اور سب سے آخر میں سب سے متنازعہ امور سامنے رکھے جاتے ہیں اگر معاملات کو افہام وتفہیم سے نمٹانے کی نیت ہو تو پھر کم از کم ایجنڈا پر اتفاق رائے کرکے متنازعہ امور کا حل ڈھونڈا جاتا ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دے کر سب سے پہلے لانگ مارچ ملتوی کرواتی جب لانگ مارچ ملتوی ہو جاتا کنٹینر ہٹ جاتے تحریک انصاف کے ورکرز گھروں کو چلے جاتے ان کا احتجاج کا موومینٹم ختم ہو جاتا پھر متنازعہ امور پر بات چیت کو آگے بڑھایا جاتا تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ موخر کر کے 4اکتوبر تک لانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ مذاکرات کو وقت دینا چاہتے تھے اور وہ کوئی مضبوط بہانہ ڈھونڈ کر لانگ مارچ ملتوی بھی کرنے کو تیار تھے وہ صرف فیس سیونگ چاہ رہے تھے جو انھیں نہیں دی گئی اب وہ سیاسی طور پر لانگ مارچ کے لیے مجبور ہیں اب وہ احتجاج بھی خیبر پختون خواہ میں ہی کرنا چاہتے ہیں لیکن اب وفاقی حکومت انھیں خیبر پختون خواہ میں بھی احتجاج نہیں کرنے دینا چاہ رہی یوں لگتا ہے کہ مذاکرات بھی ایک اتمام حجت تھا جو کرنا ہے اس کے فیصلے ہو چکے ہیں تحریک انصاف کو ریلیف دینے کا تاثر دے کر پہلے احتجاج کی طرف لایا گیا پھر مذاکرات کے ذریعے ان کی بےبسی واضح کی گئی اور اب ان کے خلاف کوئی فیصلہ کن اقدام اٹھانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا ہو گا کیا وفاقی حکومت خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی لگا کر تحریک انصاف کو ختم کر پائے گی کیا تحریک انصاف ایمرجنسی کے بعد ختم ہو جائے گی کیا خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی کے بعد دہشتگردی کا خاتمہ ہو جائے گا کیا ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کو پنجاب کی طرح خاموش کروا دیا جائے گا یہ ایسے سوالات ہیں جن کا کسی کے پاس بھی واضح جواب نہیں کیونکہ خیبر پختون خواہ میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حیثیت وہ نہیں ہے جو پنجاب یا سندھ میں ہے خیبر پختون خواہ کی اصل سیاسی قوتیں تحریک انصاف،جے یو آئی مولانا فضل الرحمن اور اے این پی ہیں مولانا فضل الرحمن اور اے این پی بھی ایمرجنسی کے خلاف ہیں اگر ایمرجنسی لگا کر تحریک انصاف کو دبانا مقصود ہے تو پھر مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کو خیبر پختون خواہ میں کردار دینا پڑے گا خیبر پختون خواہ میں دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے کسی سیاسی جماعت پر قدغن لگا کر شاید وہ نتائج حاصل نہ کیے جا سکیں جو وہاں کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سرداروں کو اعتماد میں لے کر متفقہ لائحہ عمل سے حاصل کیے جا سکتے ہیں بہرحال موجودہ صورتحال سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات مزید خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن کچھ لوگ بضد ہیں کہ ہم سب ٹھیک کر لیں گے مگر ایسا نہ ہو کہ جب تک سب ٹھیک ہو اس وقت تک عام آدمی جیتے جی مر چکا ہو

    Related Posts

    مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت سٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس، قریبی تعاون جاری رکھنے کاعزم

    پی ٹی آئی لانگ مارچ ، میٹرک کے امتحان ملتوی

    عزم استحکام، سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی، پانچ دہشت گرد جہنم واصل

    مقبول خبریں

    مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت سٹریٹجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس، قریبی تعاون جاری رکھنے کاعزم

    "جراثیم اب فوج کی طرح طاقتور ہو چکے ہیں”: طاعون کے پھیلاؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس کو مدد کی پیشکش

    امریکا میں خطرناک وبا: پنسلوانیا میں کیسز ایک ہزار سے تجاوز کر گئے، نیویارک میں ایمرجنسی

    پی ٹی آئی لانگ مارچ ، میٹرک کے امتحان ملتوی

    کیپٹن (ر) صفدر کا اعتراض ہوا میں اڑ گیا: چوہدری احسن بھون کی ڈگریوں کی تصدیق کر دی گئی

    بلاگ

    مذاکرات ختم۔۔۔اب کیا ہو گا۔؟ میاں حبیب کا کالم

    یومِ اساتذہ، معمارانِ قوم کو سیلوٹ

    استاد صرف پڑھاتا نہیں، نسلیں بناتا ہے

    اور:- اساتذہ کو انکی مراعات دو۔۔۔یہی انکا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ہے۔!!!

    گورنر راج، ایمرجنسی اور آرٹیکل 234: خیبر پختونخوا کے بارے میں پھیلنے والی آئینی غلط فہمیاں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.