واشنگٹن: امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی ایک تازہ اور انتہائی اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران امریکی فوج کے 81 طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان تباہ شدہ عسکری اثاثوں کی مجموعی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان بتائی گئی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ نقصان MQ-9 ریپر ڈرونز کا ہوا ہے جو کل فضائی نقصانات کا نصف سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ قیمتی ترین اثاثوں میں F-35A لڑاکا طیارہ اور E-3 سینٹری نگرانی و فضائی کمان طیارہ بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اردن میں واقع الاموال السالتی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں 8 F-15 اسٹرائیک ایگل طیاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، اگرچہ ان میں سے بعض کو مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں لایا جا سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، صرف رواں سال مشرقِ وسطیٰ میں 45 MQ-9 ڈرونز ضائع ہو چکے ہیں، جبکہ 2004 سے اب تک امریکی فضائیہ اپنے کل بیڑے کا تقریباً 35 فیصد MQ-9 کھو چکی ہے۔ سی این این کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس تنازع پر اب تک امریکہ کا مجموعی خرچ کم از کم 45 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان شامل نہیں۔
سی آر ایس (CRS) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بالخصوص محدود تعداد میں دستیاب E-3 سینٹری جیسے اہم ترین طیاروں کا ضائع ہونا امریکی فوج کی صلاحیتوں میں ایک بڑا خلا پیدا کر رہا ہے، جس سے دوسرے جنگی محاذوں پر بھی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی کانگریس کے سامنے تباہ شدہ اثاثوں کی مرمت، نئے طیاروں کی خریداری اور امریکی دفاعی صنعت کی سست رفتار پیداواری صلاحیت کے حوالے سے بھی شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ میں 81 ہائی ٹیک امریکی طیارے اور ڈرون تباہ،3.3ارب ڈالرکو چونا لگ گیا، CRS رپورٹ

