پشاور:پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے کہاکہ شہری کی شکایت نہیں، الیکشن کمیشن کا سوموٹو اہم ہے،الیکشن کمیشن کی انکوائری میں خامی کہاں ہے؟کیا چاہتے ہیں ، الیکشن کمیشن آپ کو سنے بغیر فیصلہ کرے؟آپ کو سنے بغیر فیصلہ ہوتا تو آپ شکایت کرتے۔دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کیس پر سماعت کی، جسٹس ارشد علی نے کہاکہ کیس کے تمام حقائق دوبارہ بتائیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ این اے 18ہری پور میں الیکشن قوانین کی خلاف ورزی ہوئی،قوانین کی خلاف ورزی سوشل اور قومی میڈیا پر رپورٹ ہوئی۔
وکیل نے کہاکہ عمر ایوب کے حق میں جلسہ الیکشن قوانین کی خلاف ورزی تھی ،الیکشن کمیشن کو ایک شہری نے شکایت بھی درج کروائی،شہری کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے انکوائری افسر مقرر کیا، الیکشن ایکٹ کے تحت سہیل آفریدی کو نوٹسز بھی جاری کئے گئے۔
جسٹس ارشد علی نے کہاکہ کیس میں ایک کارروائی سوموٹو اور دوسری شکایت پر ہوئی،الیکشن کمیشن کا سوموٹو ایکشن قانون کے خلاف کیسے ہے؟وکیل سہیل آفریدی نے کہاکہ ہمارے خلاف شکایت الیکشن سے پہلے درج کی گئی تھی،جسٹس ارشد علی نے کہاکہ شہری کی شکایت نہیں، الیکشن کمیشن کا سوموٹو اہم ہے،الیکشن کمیشن کی انکوائری میں خامی کہاں ہے؟کیا چاہتے ہیں ، الیکشن کمیشن آپ کو سنے بغیر فیصلہ کرے؟آپ کو سنے بغیر فیصلہ ہوتا تو آپ شکایت کرتے،وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے انکوائری افسر کے اختیارات بائی پاس کرکے نوٹس دیا، وکیل نے کہاکہ انکوائری افسر کون ہوگا اور کیسے کارروائی کرے گا، واضح نہیں،کیپٹن(ر)صفدر کے اعلانات کے خلاف اپنی مہم شروع کی تھی،کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف کارروائی پہلی سماعت پر ختم کردی گئی،ہائیکورٹ فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن نااہل قرار نہیں دے سکتا۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے پاس کرپٹ عناصر کو روکنے کے اختیارات ہیں،دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کا فیصلہ محفوظ کرلیا

