-
اولاد نہ ہونے پر گھر سے نکالا، اب دوسری شادی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں’، خاتون میڈیا کے سامنے آ گئی
-
عمرکوٹ (بیورو چیف/ ڈاکٹر ایم لال واگھانی):
سامارو کی رہائشی خاتون نے سابق شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر چھوڑ دیے جانے کے بعد دوسری شادی کے فیصلے پر دھمکیاں ملنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے پر تحفظ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سامارو تعلقہ کے گاؤں سارنگ کپر کی رہائشی جمنا اپنی بیوہ والدہ مینا کولہن کے ہمراہ میڈیا کے سامنے پیش ہوئی اور اپنے سابق شوہر اور سسرالی رشتہ داروں پر سنگین الزامات عائد کیے۔
خاتون کے مطابق اس کی شادی تقریباً 10 سال قبل چھور کے قریب گاؤں علی اکبر سمیجو کے رہائشی تیرتھ ولد چیتن کولہی سے ہوئی تھی، جہاں وہ 8 سال تک مقیم رہی۔ جمنا کا الزام ہے کہ اولاد نہ ہونے کو جواز بنا کر دو سال قبل اسے مبینہ تشدد کے بعد والدین کے گھر چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد سابق شوہر نے اس کی کوئی خبرگیری نہیں کی۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کی بیوہ والدہ محنت مزدوری کرکے بمشکل گھر کے اخراجات پورے کر رہی ہیں۔ اب وہ اپنی مرضی سے دوسری شادی کر کے نیا گھر بسانا چاہتی ہے، تاہم سابق شوہر اور اس کے رشتہ دار اس فیصلے میں مبینہ طور پر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
خاتون نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اسے یا اس کے اہل خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سابق شوہر تیرتھ کولہی، سسر چیتن کولہی، دیوروں میرُیو اور بھمرو اور ان کے مبینہ حامیوں پر عائد ہوگی۔
متاثرہ خاتون اور اس کی والدہ نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی عمرکوٹ اور ایس ایچ او سامارو سے فوری نوٹس لینے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
(وضاحت: خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے، متعلقہ فریق کا موقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔)
سامارو: سابق شوہر کی دھمکیاں، متاثرہ خاتون کا آئی جی سندھ سے تحفظ کا مطالبہ


