خانیوال (ویب ڈیسک): پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نوجوان نے جدید ڈیجیٹل تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے امریکی محکمۂ ڈاک (US Postal Service) کو 126 ملین ڈالر (اربوں پاکستانی روپے) کا بھاری مالی نقصان پہنچا دیا۔
ذرائع و اطلاعات کے مطابق ملزم نے خانیوال میں بیٹھ کر امریکی پوسٹل سسٹم کی آن لائن ڈیجیٹل خامیوں کا فائدہ اٹھایا اور بڑے پیمانے پر جعلی پوسٹیج اور بار کوڈز تخلیق کیے۔ ان جعلی لیبلز کو امریکہ بھر میں شپنگ اور پارسل ڈیلیوری کی خدمات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، جس سے امریکی محکمۂ ڈاک کو کروڑوں ڈالر کے محصولات سے محروم ہونا پڑا۔
عالمی اور مقامی اداروں کی جانب سے اس سائبر فراڈ کا سراغ لگائے جانے کے بعد معاملے کی تفصیلی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ ماہرینِ سائبر کرائم کے مطابق یہ کیس حالیہ سالوں میں سامنے آنے والے بڑے ڈیجیٹل اور آن لائن فراڈز میں سے ایک ہے، جس نے عالمی سطح پر محکمۂ ڈاک کے سیکیورٹی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فہیم اکرم نے LabelsBank.com نامی ویب سائٹ بنا رکھی تھی جو جعلی امریکی پوسٹل ٹکٹ فروخت کرتی تھی،ملزم ہر پارسل کا ٹکٹ صرف 2 ڈالر میں فروخت کرتا تھا چاہے پارسل کا وزن اور سائزکچھ بھی ہو۔
ویب سائٹ سے 5,200 سے زائد صارفین نے 51 لاکھ سے زائد جعلی ٹکٹ خریدے،اس فراڈ سے امریکی محکمہ ڈاک کو 12کروڑ،60 لاکھ ڈالر جو پاکستانی کرنسی میں38 ارب روپے بنتے ہیں سے زائد کا نقصان ہوا۔
امریکی عدالت نے28 ستمبر کو اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ویب سائٹ بند کر دی اور ملزم پر امریکا کو دھوکہ دینے،جعلی ڈاک ٹکٹ بنانے اور وائر فراڈ کی دفعات کے تحت چارجز لگائے گئے ہیں۔
ملزم پاکستان میں ہے اور اس کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

