ایک شدید اور نادر جلدی بیماری میں مبتلا اقبال شیخ—جن کا جسم ہر وقت انگاروں کی طرح دہکتا رہتا تھا اور وہ درد و جلن کی شدت کو کم کرنے کے لیے تالاب یا پانی کے ٹینک میں گھنٹوں بیٹھنے پر مجبور تھے—بالآخر 35 دنوں کے طویل اور پیچیدہ طبی علاج کے بعد صحتیاب ہو کر اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔
اقبال شیخ کو کچھ عرصہ قبل ایک پراسرار الرجی اور جلد کی شدید سوزش کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کے پورے جسم پر چھالے اور زخم بن گئے۔ جلن اس قدر ناقابلِ برداشت تھی کہ عام مسکن ادویات یا مرہم بھی اثر نہیں کر رہے تھے۔ جسم کو تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈک پہنچانے اور عذاب ناک درد سے راحت کے لیے وہ تالاب یا پانی سے بھرے کنٹینر میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
حالت میں بہتری نہ آنے پر انہیں ماہر طبی ٹیم کی دیکھ بھال میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے مختلف جلدی ٹیسٹوں کے بعد ان کا علاج شروع کیا۔ 35 دنوں تک جاری رہنے والے اس طویل معالجے، خصوصی مراقبت اور ادویات کے نتیجے میں ان کی جلد کی سوزش ختم ہوئی اور زخم بھرنا شروع ہو گئے۔
صحتیاب ہو کر گھر پہنچنے پر اقبال شیخ اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ لمحات کسی معجزے سے کم نہ تھے۔ اقبال شیخ نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کا شکر گزار ہوتے ہوئے کہا:
"مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے مجھے دوسری زندگی مل گئی ہے۔ پانی میں گھنٹوں پڑے رہنا ایک شدید عذاب تھا، لیکن اللہ کے فضل اور ڈاکٹروں کی دن رات کی محنت سے مجھے اس تکلیف سے نجات ملی ہے۔”
ڈاکٹروں کے مطابق مریض کی حالت اب مکمل طور پر مستحکم اور تسلی بخش ہے، تاہم انہیں گھر پر بھی صفائی ستھرائی اور ضروری طبی تدابیر کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

