وٹامن ڈی کی کمی کو عام طور پر صرف ہڈیوں اور جوڑوں کی کمزوری سے جوڑا جاتا ہے، لیکن جدید طبی تحقیقات اور ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق یہ دل کی صحت کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
دل کی صحت پر وٹامن ڈی کے اثرات (ماہرین کی رائے)
-
بلڈ پریشر میں اضافہ: وٹامن ڈی جسم میں خون کے دباؤ کو کنٹرول کرنے والے نظام (Renin-Angiotensin System) کو متوازن رکھتا ہے۔ اس کی کمی سے بلڈ پریشر بڑھنے اور ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
-
شریانوں کا سخت ہونا: وٹامن ڈی کی کمی سے خون کی شریانیں اپنی لچک کھو دیتی ہیں اور ان میں سوجن (Inflammation) پیدا ہوتی ہے، جس سے دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔
-
دل کے دورے اور ہارٹ فیلیئر کا خطرہ: طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی سطح مسلسل کم رہتی ہے، ان میں دل کے دورے (Heart Attack)، ہارٹ فیلیئر اور فالج کا امکان دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
-
میٹابولزم اور ذیابیطس: وٹامن ڈی جسم میں انسولین کی حساسیت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے شوگر اور موٹاپے کے امکانات بڑھتے ہیں، جو دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔
وٹامن ڈی حاصل کرنے کے اہم اور قدرتی ذرائع
-
سورج کی روشنی: روزانہ 15 سے 20 منٹ صبح یا دوپہر کے وقت دھوپ میں رہنا وٹامن ڈی کے حصول کا سب سے موثر اور قدرتی ذریعہ ہے۔
-
متوازن غذا: چکنائی والی مچھلی (سالمین، ٹیونا)، انڈے کی زردی، فورٹیفائیڈ دودھ، دہی اور مکھن کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔
-
سپلیمنٹس: شدید کمی کی صورت میں خون کا ٹیسٹ (25-Hydroxy Vitamin D) کروائیں اور ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس لیں۔
ماہرین کی تجاویز
پٹھوں میں درد، مسلسل تھکاوٹ اور بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ وٹامن ڈی کی کمی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ اگر ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی ٹیسٹ کروائیں، تاہم خود سے یا ضرورت سے زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس لینے سے گریز کریں کیونکہ اس کی زیادہ مقدار بھی صحت کے لیے مضر ہو سکتی ہے۔

