تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں نے پولیس، اینٹی کرپشن اور بیوروکریسی کے درمیان جاری کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔ رشوت کے خلاف کارروائی اسی وقت مؤثر اور قابلِ اعتماد بن سکتی ہے جب احتساب کا دائرہ بلاامتیاز ہر محکمے اور ہر افسر تک پہنچے۔ پنجاب پولیس کے سربراہ عبدالکریم اینٹی کرپشن کی کارروائیوں، خصوصاً پولیس اہلکاروں کے خلاف ہونے والے چھاپوں، پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ مؤقف یہ سامنے آیا کہ ایسے واقعات پولیس کے ادارہ جاتی تشخص اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ماتحت افسران کی جانب سے یہ تجویز بھی زیرِ غور آنے کی اطلاعات ہیں کہ رشوت دینے والے افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 316 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔ تاہم رشوت دینے والے کے ساتھ رشوت لینے والے سرکاری اہلکار اور اس پورے نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے جو بدعنوانی کو ممکن بناتا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کے اجلاسوں میں بھی اس صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے آر پی اوز، ڈی پی اوز اور دیگر افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں اور محکموں میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف خود کارروائی کریں اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ یہ پالیسی محض کارروائی کی بجائے ادارہ جاتی خود احتسابی کی طرف ایک قدم ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر بلاامتیاز عمل ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے کے تمام محکموں میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے متعدد بار واضح احکامات جاری کر چکی ہیں، مگر اصل امتحان احکامات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ صحت، کمیونیکیشن اینڈ ورکس، فوڈ، پیرا، ای پی اے، ریونیو، ستھرا پنجاب، ایل ڈی اے، پی ایچ اے، محکمہ آبپاشی اور سوشل سکیورٹی سمیت مختلف محکموں میں شکایات اور بے ضابطگیوں کی اطلاعات موجود ہوں تو بڑے عہدوں پر موجود ذمہ داروں کے خلاف بھی وہی سختی ضروری ہے جو ایک عام اہلکار کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔ دلاور فگار کا شعر آج کے نظامِ احتساب پر پوری طرح صادق آتا ہے "میں بتاؤں تجھ کو تدبیرِ رہائی، مجھ سے پوچھ،لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا”۔ اگر احتساب کا نظام صرف کمزور کڑی تک پہنچے تو اسے مکمل احتساب نہیں کہا جا سکتا۔ حقیقی احتساب وہ ہے جس میں رشوت لینے والا، دینے والا، سہولت کار اور اس پورے نظام سے فائدہ اٹھانے والا ہر کردار قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔ پولیس اور بیوروکریسی میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ اینٹی کرپشن اور سی سی ڈی جیسے اہم محکموں کی کمان ایک ہی افسر کے پاس آنے کی صورت میں روایتی ادارہ جاتی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا انتظامی ماڈل تشکیل پاتا ہے تو اس کی کامیابی اسی وقت ثابت ہوگی جب احتساب کسی مخصوص ادارے یا عہدے تک محدود نہ رہے بلکہ پورے صوبائی انتظامی ڈھانچے میں یکساں معیار کے ساتھ نافذ ہو۔ اطلاعات کے مطابق ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور شائد بعض وجوہات کی وجہ سے ممکن بھی نا ہو اور شائد یہ سلسلہ اب تھم جائے کیونکہ بڑے افسر اس عمل سے خوش نہیں۔ پنجاب پولیس کے سربراہ کی جانب سے کرپٹ افسران کے خلاف خود کارروائی کی ہدایت پولیس کے لیے ایک واضح امتحان ہے۔ آر پی او، ڈی پی او اور دیگر کمانڈ افسران کو اپنے ماتحت افسران کے خلاف عملی کارروائی کرنا ہوگی تاکہ معاملات فائلوں، انکوائریوں اور وضاحتوں کے درمیان دب نہ جائیں۔ کرپشن کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا پیمانہ چھاپوں کی تعداد نہیں بلکہ نتائج ہیں۔ اگر ایک تھانے کے اہلکار کے خلاف کارروائی ہو اور بڑے محکموں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر خاموشی اختیار کی جائے تو احتساب کی ساکھ متاثر ہوگی۔ پنجاب حکومت اگر واقعی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس چاہتی ہے تو احتساب کا دائرہ پولیس سے نکل کر پورے صوبائی نظامِ حکومت تک جانا ہوگا۔ چھوٹے اہلکار سے لے کر بڑے افسر تک، تھانے سے لے کر سیکرٹریٹ تک، ہر سطح پر ایک ہی اصول نافذ ہوناچاہیے جو رشوت لے، وہ بھی جواب دہ جو رشوت دے، وہ بھی جواب دہ اور جو کرپشن دیکھ کر خاموش رہے، وہ بھی اپنی ذمہ داری سے فرار نہ ہو سکے۔ تب ہی کرپشن کے خلاف مہم حقیقی اصلاحِ نظام بن سکے گی۔ آئی جی پنجاب کو کرپشن کے خلاف کارروائی کے ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ماتحت اہلکار کرپشن کی طرف کیوں جاتے ہیں۔ سی سی ڈی کو سرکاری گاڑی، فیول، مینٹیننس، Cost of Investigation، اسٹیشنری اور ریڈ کے اخراجات سمیت متعدد سہولیات میسر ہیں، جبکہ عام تھانے کے اہلکار کو کئی بنیادی اخراجات بھی اپنی جیب سے پورے کرنا پڑتے ہیں۔ دوسری طرف بیماری کی حالت میں بھی 18،18 گھنٹے ڈیوٹی معمول بن چکی ہے۔ آئی جی پنجاب خود ایک انتہائی ایماندار افسر ہیں اور اس نظام کا حصہ رہ چکے ہیں، اس لیے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کرپشن صرف اہلکار کی نیت کا مسئلہ نہیں، بعض اوقات نظام کی خامیاں بھی اسے جنم دیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی جی پنجاب صرف کرپشن کرنے والے اہلکار کا احتساب نہ کریں بلکہ کرپشن کو جنم دینے والے پورے نظام کا بھی پوسٹ مارٹم کرائیں۔ ہر تھانے کو ضروری سرکاری اخراجات کے لیے شفاف بجٹ، گاڑی، فیول اور تفتیشی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ اہلکار کو سرکاری کام کے لیے غیر قانونی ذرائع کا سہارا لینے کی کوئی گنجائش ہی نہ ملے۔ پھر جو ہاتھ رشوت کی طرف بڑھے، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
گوجرہ میں ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ اخلاق اللہ تارڑ کی کھلی کچہری کے بعد نائلہ شہزادی نے انصاف نہ ملنے کا شکوہ کرتے ہوئے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ متعدد کھلی کچہریوں میں پیش ہو چکی ہیں، مگر مسئلہ حل نہیں ہوا۔ بعض مقامی صحافیوں نے بھی ڈی پی او کے خلاف شدید نعرے بازی کی، تاہم ڈی پی او گاڑی میں روانہ ہوگئے۔ نائلہ شہزادی سابق ایس ایچ او تھانہ صدر ٹوبہ راؤ حسن کے خلاف مختلف فورمز پر درخواستیں دے چکی ہیں اور پولیس کارروائی سے مطمئن نہیں
”کرپشن کے خلاف اہلکاروں کی گرفتاریاں ، آئی جی پنجاب پریشان کیوں ؟“



