لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے صوبہ بھر میں سخت ترین کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے سیف سٹی کے اے آئی (AI) بیسڈ کیمروں، ورچوئل پیٹرولنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے محض تین دنوں (10 سے 12 ستمبر) کے دوران ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
11 brick kilns inspected. 3 demolished for violations.
Following the identification of black smoke emissions by Safe City Bhakkar, EPA Bhakkar took enforcement action, demolishing three brick kilns and imposing fines on the remaining violators.
Cleaner air starts with shared… pic.twitter.com/9UdNO9Tr7E
— Punjab Safe Cities Authority (@PSCAsafecities) September 14, 2026
سیف سٹی کے ترجمان کے مطابق، جدید کیمروں اور ورچوئل پیٹرولنگ کے ذریعے بغیر ترپال کے تعمیراتی سامان لے جانے والی 551 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 343 گاڑیوں کے بھاری چالان کیے گئے جبکہ 140 کو وارننگز جاری کی گئیں۔ اس کے علاوہ، شہر بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی 489 گاڑیوں کو ٹریس کیا گیا، جن میں سے 365 کو جرمانے، 70 کو وارننگز دی گئیں جبکہ 152 گاڑیوں کے براہِ راست ای چالان جاری کیے گئے۔
کارروائی کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے سیف سٹی کے سمارٹ سرویلنس سسٹم نے باربی کیو کے دھوئیں اور غیر قانونی چمنیوں کی 85 خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا، جن میں سے 3 مقامات کو کلیئر جبکہ 65 کو تنبیہی وارننگز دی گئیں۔ اینٹوں کے بھٹوں سے زہریلا دھواں خارج ہونے کے 76 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 بھٹے سیل کر دیے گئے، 2 کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ دیگر کو جرمانے کیے گئے۔ اسی طرح صنعتی آلودگی پھیلانے والے 13 کارخانوں کے خلاف بھی ایکشن لیتے ہوئے جرمانے اور وارننگز جاری کی گئیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ فصلوں کی باقیات اور کچرا جلانے کے واقعات کی مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمروں کا مسلسل استعمال جاری ہے، اور تمام خلاف ورزیوں کا ڈیٹا فوری طور پر متعلقہ نفاذی اداروں کو ارسال کیا جا رہا ہے۔ سیف سٹی حکام نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ماحول دشمن سرگرمیوں کی فوری اطلاع ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 یا ’پبلک سیفٹی ایپ‘ کے ’کنیکٹ ٹو پی ایس سی اے‘ (Connect to PSCA) فیچر کے ذریعے دیں تاکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

