تحریر : راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

معاشرے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی صلاحیتوں، کردار، خلوص اور خدمت کے ذریعے اپنے اردگرد کے لوگوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام پیدا کرلیتی ہیں۔ ملک شوکت حیات شاہی کھرل مٹھہ ٹوانہ بھی انہی ہمہ جہت اور باصلاحیت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مختلف صلاحیتوں سے نوازا اور جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے بروئے کار لا کر ایک قابلِ قدر مقام حاصل کیا۔
ملک شوکت حیات شاہی کھرل نے بطور ہردلعزیز معلم ایک طویل عرصہ محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہ کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ استاد کا منصب محض کتابی علم منتقل کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ نسلوں کی کردار سازی کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔ ملک شوکت حیات شاہی کھرل نے اس ذمہ داری کو خلوص اور احساسِ فرض کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی اور اپنے شاگردوں کی علمی و اخلاقی تربیت میں اپنا کردار ادا کیا۔
اساتذہ کے حقوق اور مسائل کی ترجمانی کے حوالے سے بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ پنجاب ٹیچرز یونین ضلع خوشاب کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے انہوں نے اساتذہ کرام کے مسائل اور امنگوں کی ترجمانی کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ ان کی یہ کاوش اس بات کی عکاس ہے کہ وہ اپنے پیشے اور برادری کے ساتھ وابستگی کو محض ایک عہدے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
ملک شوکت حیات شاہی کھرل کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو عشقِ رسولِ اکرم ﷺ بھی ہے۔ بطور معلم وہ نئی نسل کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ، اخلاقِ حسنہ، احترامِ انسانیت اور دینی و معاشرتی اقدار اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم کا حقیقی مقصد صرف کامیاب پیشہ ور افراد تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے باکردار انسانوں کی تربیت بھی ہے جو معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں۔
سماجی اور فلاحی میدان میں بھی ملک شوکت حیات شاہی کھرل کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ سوشل ورکر کی حیثیت سے وہ دکھی انسانیت کے دکھ درد میں شریک ہونے اور معاشرے کے بے یارومددگار افراد کی حتی المقدور مدد کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ معاشرتی اصلاح اور فلاحی سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی انہیں عوامی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں عزت و احترام کا مستحق بناتی ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کا خلوص، وفاداری اور دوست نبھانے کا جذبہ ہے۔ وہ وسیع حلقۂ احباب رکھتے ہیں اور اپنے دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونا، ان کے ساتھ وفاداری سے پیش آنا اور ضرورت کے وقت ان کے کام آنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہی اوصاف ان کی شخصیت کو لوگوں کے لیے قابلِ اعتماد اور دل عزیز بناتے ہیں۔
ملک شوکت حیات شاہی کھرل ایک زندہ دل، ملنسار، مخلص اور متحرک شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی میں تعلیم، تربیت، اساتذہ کی نمائندگی، عشقِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق جیسے خوبصورت پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ بلاشبہ معاشرے کو ایسے ہی افراد کی ضرورت ہے جو اپنی صلاحیتوں کو ذاتی مفاد کے بجائے انسانیت کی بھلائی، نئی نسل کی تربیت اور معاشرتی بہتری کے لیے استعمال کریں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک شوکت حیات شاہی کھرل کو صحت، سلامتی، عزت، خوشیاں اور مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے، ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین ثم آمین۔

