بیجنگ:دنیا بھر میں عسکری ٹیکنالوجی کی دوڑ کے خطرناک حد تک تیز ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چین نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی نسل کے ہتھیاروں کی دوڑ بے لگام ہونے سے پہلے اس کے لیے سخت بین الاقوامی اصول اور ضابطے طے کیے جائیں۔
چین کے وزیر دفاع ڈونگ جون (Dong Jun) نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ممالک مل کر سیکیورٹی گورننس کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے عسکری مقاصد کے لیے غلط استعمال اور اس کے تباہ کن اثرات کے خطرات کے پیشِ نظر، تمام فریقین کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور مشترکہ طور پر سیکیورٹی کے ضابطے بنانے ہوں گے۔”
چین کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بیجنگ یہ چاہتا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI)، خلا (Outer Space) اور سمندر کی گہرائیوں (Deep Ocean) جیسی حساس اور جدید ترین شعبوں میں باقاعدہ سیکیورٹی مذاکرات اور نئے قوانین کا نفاذ کیا جائے، تاکہ دنیا بھر کے ممالک اس دوران اپنے خطرات کے جائزے اور تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق چین کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا میں خلا اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر عسکری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔
عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

