مدینہ منورہ :سعودی وزیر توانائی، صنعت و معدنی وسائل اور کنگ عبداللہ سٹی فار اٹامک اینڈ رینیوبل انرجی بورڈ کے چیئرمین شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے مملکت کی جانب سے پُرامن جوہری توانائی کے استعمال، جوہری تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 70 ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’دنیا میں توانائی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث توانائی کے ذرائع میں تنوع، قابلِ اعتماد فراہمی، اقتصادی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا ’سعودی عرب اپنے وسیع معدنی وسائل جن میں فاسفیٹ، سونا، تانبا، زنک، چاندی، باکسائٹ، میگنیشیم، لوہا، نایاب زمینی عناصر اور یورینیئم شامل ہیں کو اقتصادی اور صنعتی ترقی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔‘
وزیر توانائی کے مطابق ’قومی جوہری توانائی منصوبے کے تحت یورینیئم کے ذخائر کی تلاش اور ان سے اقتصادی استفادے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان میں شمالی سعودی عرب میں فاسفیٹ کھاد کی پیداوار کے دوران فاسفورک ایسڈ کے ساتھ موجود یورینیئم کا حصول شامل ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ’ فرانسیسی کمپنی ’اورانو‘ کے تعاون سے کیے گئے تجربات میں یورینیم کے حصول کے حوالے سے حوصلہ افزا اقتصادی امکانات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مفاہمت کی یادداشت پردستخط کیے گئے۔‘
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ’مدینہ منورہ ریجن میں ’جبل صاید‘ منصوبے اور دیگر ارضیاتی مطالعات سے تقریبا 114 ملین ٹن خام معدنیات کے تخمینے سامنے آئے ہیں، جن میں نایاب زمینی دھاتوں، خصوصا بھاری عناصر کے ساتھ یورینیئم کے بھی امیدا افزا ذخائر موجود ہیں۔‘
مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت


