تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
صرف چار کیمیائی حروف میں چھپی وہ معلومات جو ہماری شناخت، نسب، بیماریوں اور طب کے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتی ہیں
تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد
ہمارے جسم کے تقریباً ہر خلیے کے اندر ایک ایسی چیز موجود ہے جو ہمارے بارے میں ایک حیرت انگیز کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسے ننگی آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا، یہ بول نہیں سکتی، اس پر ہمارا نام، تصویر، شناختی کارڈ نمبر یا دستخط بھی درج نہیں ہوتے، لیکن یہی چیز سائنس دانوں کو بتا سکتی ہے کہ ہم کون ہیں، ہمارے حیاتیاتی والدین کون ہیں، دو افراد کے درمیان حیاتیاتی رشتہ موجود ہے یا نہیں، اور بعض صورتوں میں یہ بھی کہ ہمیں کسی خاص بیماری کا موروثی خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تو نہیں۔
اس حیرت انگیز مادے کا نام ہے DNA — Deoxyribonucleic Acid۔
زیادہ تر لوگ DNA کا نام جرائم کی تفتیش، پدری نسبت کے ٹیسٹ یا ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں سنتے ہیں۔ لیکن DNA صرف پولیس یا فرانزک لیبارٹری کی ضرورت نہیں۔ حقیقت میں یہ انسانی زندگی کا حیاتیاتی معلوماتی نظام ہے۔
اور جوں جوں سائنس DNA کے رازوں سے پردہ اٹھا رہی ہے، یہ کہانی مزید حیرت انگیز ہوتی جا رہی ہے۔
ذرا تصور کیجیے کہ انسانی جسم ایک نہایت پیچیدہ شہر ہے۔ کسی شہر کو تعمیر کرنے اور اسے چلانے کے لیے ہدایات درکار ہوتی ہیں۔ کہاں سڑک بنے گی، عمارتیں کیسے تعمیر ہوں گی، بجلی اور پانی کا نظام کیسے چلے گا اور فضلہ کیسے خارج ہوگا۔ ہمارے خلیوں کو بھی اسی طرح کی ہدایات درکار ہوتی ہیں، اور DNA ان معلومات کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔
DNA صرف چار کیمیائی حروف سے بنا ایک طویل سالماتی نظام ہے: A — Adenine، T — Thymine، C — Cytosine اور G — Guanine۔ یوں سمجھ لیجیے کہ زندگی کی ایک بہت بڑی کتاب صرف چار حروف میں لکھی گئی ہے۔
ان چار حروف کی ترتیب بدلنے سے معلومات بدل سکتی ہیں۔ ایک انسانی جینوم میں تقریباً تین ارب DNA base pairs ہوتے ہیں۔ انسانوں کا 99 فیصد سے زیادہ DNA ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے، لیکن جو نسبتاً معمولی فرق موجود ہیں، وہ ہماری حیاتیاتی انفرادیت میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے DNA کو ایک طرح کا حیاتیاتی شناختی کارڈ بھی کہا جا سکتا ہے۔
اگر کسی شخص کا خون، تھوک، جلد کے خلیے یا کوئی اور حیاتیاتی مادہ کسی جگہ موجود ہو تو لیبارٹری اس میں سے DNA حاصل کرکے اس کے مخصوص حصوں کا جائزہ لے سکتی ہے اور ایک DNA profile تیار کر سکتی ہے۔ پھر اس پروفائل کا موازنہ کسی مشتبہ شخص، لاپتہ فرد، رشتہ دار یا دوسرے حیاتیاتی نمونے سے کیا جا سکتا ہے۔
اسی اصول کی بنیاد پر DNA فرانزک تحقیقات، نامعلوم لاشوں کی شناخت، لاپتہ افراد کی تلاش، پدری یا مادری نسبت کے تعین، قدرتی آفات میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور بعض قانونی معاملات میں استعمال ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سائنسی احتیاط ضروری ہے۔ DNA انتہائی طاقتور ثبوت ہے، مگر یہ کوئی جادوئی یا ہر حال میں ناقابلِ خطا ٹیسٹ نہیں۔ نمونے کا معیار، لیبارٹری کا طریقہ، ایک نمونے میں موجود افراد کی تعداد اور شماریاتی تجزیہ—سب نتیجے کی درست تشریح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
DNA کی ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے جینوم میں لاکھوں مقامات پر معمولی جینیاتی فرق پائے جاتے ہیں۔ ایک معمولی تبدیلی کا کوئی نمایاں اثر نہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن بعض تبدیلیاں کسی اہم حیاتیاتی خصوصیت یا بیماری کے خطرے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہی فرق انسانوں کو جینیاتی طور پر ایک دوسرے سے منفرد بناتے ہیں۔ البتہ identical twins کا جینوم انتہائی مشابہ ہوتا ہے، اس لیے ان کی شناخت کے لیے بعض اوقات زیادہ پیچیدہ تجزیے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اب DNA کے حجم کا تصور کیجیے۔
اگر ایک انسانی خلیے میں موجود DNA کو سیدھا کھینچ دیا جائے تو اس کی لمبائی تقریباً دو میٹر بنتی ہے۔ ذرا سوچئے، ایک انتہائی معمولی سے خلیے کے اندر تقریباً دو میٹر لمبا DNA موجود ہے۔
یہ اتنا لمبا DNA اتنی چھوٹی جگہ میں کیسے سما جاتا ہے؟
اس لیے کہ DNA پروٹینز کے گرد لپٹ کر اور بار بار تہہ ہو کر انتہائی منظم انداز میں خلیے کے nucleus کے اندر پیک ہوتا ہے۔
انسانی جسم میں کھربوں خلیے ہوتے ہیں، اگرچہ ہر خلیے میں nucleus اور مکمل nuclear DNA موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر بالغ سرخ خون کے خلیوں میں nucleus نہیں ہوتا۔ پھر بھی اگر ایک سادہ اندازے کے طور پر تقریباً 30 کھرب خلیوں اور ہر nucleated cell میں دو میٹر DNA کو سامنے رکھا جائے تو مجموعی لمبائی دسیوں کھرب میٹر، یعنی دسیوں ارب کلومیٹر کے برابر بنتی ہے۔
اصل عدد سے زیادہ اہم بات اس کا حیرت انگیز پیمانہ ہے: ہماری microscopic دنیا میں معلومات کی ایک ایسی وسعت موجود ہے جس کا تصور بھی حیران کر دیتا ہے۔
DNA nucleus کے اندر chromosomes کی شکل میں منظم ہوتا ہے۔ انسانی جسم کے زیادہ تر خلیوں میں 46 chromosomes ہوتے ہیں، جن میں 23 ماں اور 23 باپ سے ملتے ہیں۔ ان chromosomes میں ہزاروں genes موجود ہوتے ہیں۔ ایک gene کو سادہ الفاظ میں DNA کا ایسا فعال حصہ سمجھا جا سکتا ہے جو کسی RNA یا protein کی تیاری یا کسی حیاتیاتی عمل کی regulation میں کردار ادا کرتا ہے۔
سائنس دان ایک زمانے میں non-coding DNA کے بڑے حصے کو تقریباً بے کار سمجھتے تھے اور اسے “junk DNA” کہا جاتا تھا۔ اب معلوم ہو چکا ہے کہ یہ تصور بہت سادہ تھا۔ جینوم کے بہت سے non-coding حصوں کے اہم regulatory یا structural functions ہیں، اور سائنس دان اب بھی ان کے تمام کردار سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ DNA کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
کیا DNA ہمیں بتا سکتا ہے کہ ہمیں کون سی بیماری ضرور لاحق ہوگی؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ DNA بعض اوقات یہ بتا سکتا ہے کہ کسی شخص میں کسی بیماری کا جینیاتی خطرہ زیادہ ہے، لیکن عموماً یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ بیماری لازماً کب اور کس شدت سے ہوگی۔
کچھ بیماریاں مخصوص جینیاتی تبدیلیوں سے بہت مضبوطی سے وابستہ ہوتی ہیں، مثلاً cystic fibrosis، Huntington disease اور بعض موروثی خون کی بیماریاں۔ لیکن ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی شریانوں کی بیماری، موٹاپا اور بہت سے cancers زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ان میں جینز، ماحول، طرزِ زندگی، عمر اور دیگر حیاتیاتی عوامل مل کر کردار ادا کرتے ہیں۔
اس لیے ایک اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:
جینز قسمت کا فیصلہ نہیں کرتے۔
اگر کسی شخص کے DNA ٹیسٹ سے ذیابیطس کا خطرہ زیادہ نکلتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے لازماً ذیابیطس ہوگی۔ اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا جینیاتی پس منظر اسے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حساس بناتا ہے۔
غذا، ورزش، smoking، موٹاپا، انفیکشنز، آلودگی، نیند، ادویات اور دیگر عوامل جینز کے ساتھ مل کر بیماری کے نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہی تصور جدید genomic medicine کی بنیاد ہے۔
آج DNA sequencing کے ذریعے سائنس دان DNA کے بہت بڑے حصے کو پڑھ سکتے ہیں۔ کسی شخص کے DNA میں پائی جانے والی تبدیلیوں کا موازنہ reference sequences اور ان بڑے databases سے کیا جاتا ہے جن میں بیماریوں اور جینیاتی variants سے متعلق معلومات موجود ہوتی ہیں۔ پھر ڈاکٹر یا genetic specialist ان نتائج کو مریض کی عمر، علامات، خاندانی تاریخ، جسمانی معائنے اور دیگر ٹیسٹوں کے ساتھ ملا کر سمجھتا ہے۔
DNA ہمیں یہ بھی سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ایک دوا ایک شخص پر بہت اچھا اثر کیوں کرتی ہے جبکہ دوسرے شخص پر کم اثر کرتی ہے یا زیادہ side effects پیدا کرتی ہے۔ اس شعبے کو pharmacogenomics کہا جاتا ہے۔
مستقبل میں ممکن ہے ڈاکٹر کسی دوا کے انتخاب میں مریض کے جینیاتی profile کو بھی شامل کریں اور یوں زیادہ مؤثر اور کم نقصان دہ علاج کا انتخاب کیا جا سکے۔ یہی personalised یا precision medicine کا وعدہ ہے۔
Cancer کے علاج میں بھی DNA نے ایک نیا دور شروع کر دیا ہے۔ سرطان کے خلیے وقت کے ساتھ جینیاتی اور molecular تبدیلیاں جمع کرتے ہیں۔ tumour کے DNA کا تجزیہ بعض اوقات یہ بتا سکتا ہے کہ cancer کو بڑھانے والی تبدیلیاں کون سی ہیں، کون سا targeted treatment مؤثر ہو سکتا ہے اور علاج کے دوران resistance پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔
اسی طرح DNA ہمیں اپنے والدین اور آباؤ اجداد کے بارے میں بھی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ ایک بچہ اپنے nuclear DNA کا تقریباً نصف ماں اور نصف باپ سے حاصل کرتا ہے۔ مخصوص genetic patterns کی مدد سے حیاتیاتی رشتوں، ancestry اور انسانی آبادیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات پاکستان کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان میں بہت سے خاندانوں میں consanguineous marriage، خصوصاً cousin marriage، کی روایت موجود ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسے ہر جوڑے کے بچے میں genetic disorder ہوگا۔ تاہم اگر دونوں والدین کسی ایک harmful recessive variant کے حامل ہوں تو بچوں میں اس بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے ایسے خاندانوں میں genetic counselling اہم ہو سکتی ہے جہاں موروثی بیماری، بار بار بچوں کی غیر واضح اموات، پیدائشی نقائص، intellectual disability، سماعت یا بینائی کی موروثی خرابی، inherited blood disorders یا بیماری کے کسی غیر معمولی خاندانی pattern کی تاریخ موجود ہو۔
بعض حالات میں genetic testing وہ جواب فراہم کر سکتی ہے جو روایتی طبی ٹیسٹ نہیں دے پاتے۔
لیکن کیا ہر شخص کو DNA ٹیسٹ کروانا چاہیے؟
ضروری نہیں۔
زیادہ genetic information ہمیشہ بہتر medical care نہیں ہوتی۔ ٹیسٹ سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ سوال کیا ہے، ٹیسٹ کتنا قابلِ اعتماد ہے، نتیجے کی تشریح کون کرے گا اور اس معلومات کے بعد عملی طور پر کیا کیا جائے گا۔ غلط تشریح غیر ضروری خوف بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اور پھر ایک نہایت اہم سوال ہے:
آپ کے DNA کی معلومات کس کے پاس ہے؟
پاس ورڈ تبدیل کیا جا سکتا ہے، فون نمبر تبدیل کیا جا سکتا ہے، تصویر بھی بدلی جا سکتی ہے۔ لیکن genetic information آپ کی شناخت اور آپ کے حیاتیاتی خاندان سے بنیادی طور پر جڑی ہوتی ہے۔
اس لیے genetic testing کے ساتھ privacy، consent، data security اور genetic information کے ممکنہ غلط استعمال جیسے سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں genetic testing کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ مضبوط اخلاقی اور قانونی اصولوں کی ضرورت بھی بڑھتی جائے گی۔
مستقبل شاید اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہو۔
طب بتدریج صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیماری کے خطرے کو پہلے سے پہچاننے اور اسے روکنے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اگر کسی شخص میں موروثی cancer کا خطرہ پہلے ہی معلوم ہو جائے؟ اگر کسی genetic disorder کو شدید علامات پیدا ہونے سے پہلے پہچان لیا جائے؟ اگر کسی مریض کے لیے دوا کا انتخاب اس کے جینیاتی profile کی بنیاد پر کیا جا سکے؟ اور اگر artificial intelligence اربوں genetic variations کا تجزیہ کرکے ایسے patterns تلاش کر سکے جنہیں انسان آسانی سے نہیں پہچان سکتا؟
یہ سوال اب محض science fiction نہیں رہے۔
لیکن DNA کی کہانی کو ایک اور زاویے سے دیکھنا بھی دلچسپ ہے—قرآن کے زاویے سے۔
قرآن بار بار record، writing، preservation، counting اور تفصیلی ریکارڈ کے تصورات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ آج جب سائنس نے دکھایا ہے کہ حیاتیاتی معلومات بھی انتہائی چھوٹی سطح پر محفوظ اور منتقل ہو سکتی ہیں، تو یہ تصورات ایک نئے انداز سے غور و فکر کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
سورۃ القمر میں فرمایا گیا ہے:
“اور انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ سب تحریری ریکارڈ میں موجود ہے۔”
قرآن 54:52
اور اس کے فوراً بعد:
“اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔”
قرآن 54:53
آج جینیات کے علم کے تناظر میں یہ الفاظ ایک خاص معنوی گونج پیدا کرتے ہیں۔ ایک microscopic cell کے اندر اربوں molecular “letters” ایک مخصوص ترتیب میں موجود ہوتے ہیں، اور معمولی سے فرق بھی کسی فرد کی حیاتیاتی خصوصیات میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔
سورۃ یٰسین میں فرمایا گیا ہے:
“یقیناً ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو آثار وہ پیچھے چھوڑ گئے، ہم اسے بھی لکھتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں شمار کر رکھا ہے۔”
قرآن 36:12
آج کے forensic genetics کے دور میں “جو آثار وہ پیچھے چھوڑ گئے” کے الفاظ خاص طور پر غور طلب محسوس ہوتے ہیں۔ چند خلیے، خون کا ایک قطرہ، تھوک یا کوئی دوسرا حیاتیاتی مادہ اپنے اندر DNA رکھ سکتا ہے، جس سے سائنس دان کسی فرد کی شناخت یا حیاتیاتی رشتے کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
قرآن ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
“اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو اس کی گردن سے وابستہ کر رکھا ہے، اور قیامت کے دن اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ کہا جائے گا: اپنی کتاب پڑھ! آج تم خود ہی اپنے حساب کے لیے کافی ہو۔”
قرآن 17:13–14
ایک فرد سے وابستہ مخصوص record کا یہ تصور DNA کے بارے میں غور کرتے ہوئے بھی ایک گہری معنوی مناسبت پیدا کرتا ہے۔ ہر انسان اپنے خلیوں میں ایک مخصوص biological sequence رکھتا ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور جس میں ایسے genetic variations موجود ہوتے ہیں جو اسے دوسرے انسانوں سے ممتاز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
جدید genetics نے یوں biological information کے محفوظ رہنے، نقل ہونے اور نسلوں تک منتقل ہونے کی ایک حیرت انگیز حقیقت ہمارے سامنے رکھی ہے۔
DNA کو اس معنی میں زندگی کا ایک molecular archive کہا جا سکتا ہے۔
یہ معلومات کو ایک کیمیائی زبان میں محفوظ کرتا ہے، خلیوں کی تقسیم کے وقت اس کی نقل بنتی ہے، والدین سے اولاد تک منتقل ہوتی ہے اور ایسے genetic differences بھی محفوظ رکھتی ہے جو افراد کو ایک دوسرے سے ممتاز کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
انسانی جینوم کی تکمیل کی طرف سائنس نے 2003 میں ایک بڑا سنگِ میل عبور کیا، جبکہ 2022 میں سائنس دانوں نے پہلی essentially complete، gapless human genome sequence پیش کی۔ لیکن genome کو پڑھ لینا اس کی مکمل زبان سمجھ لینے کے مترادف نہیں۔
یہ ایسے ہے جیسے ہمارے ہاتھ ایک بہت بڑی کتاب آ گئی ہو، لیکن ہم ابھی اس کی زبان سیکھ رہے ہوں۔
ہم بہت سے حروف پڑھ سکتے ہیں، بہت سے genes اور mutations کو پہچان سکتے ہیں، مگر ابھی یہ نہیں جانتے کہ genome کی ہر ترتیب کیا کردار ادا کرتی ہے اور جینیاتی، ماحولیاتی اور دیگر عوامل مل کر انسان کی پیچیدہ شخصیت اور صحت کو کیسے تشکیل دیتے ہیں۔
اس لیے اگلا بڑا انقلاب شاید صرف DNA کو پڑھنے کا نہیں بلکہ DNA کو سمجھنے کا ہوگا۔
اور اس سفر میں artificial intelligence ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہے۔ ہمارے medical colleges اور hospitals میں genomics کی تربیت، معیاری sequencing laboratories، genetic testing کے واضح standards، genomic research اور trained professionals کی ضرورت آنے والے برسوں میں مزید بڑھے گی۔ پاکستان کی بڑی اور متنوع آبادی inherited diseases کے بارے میں اہم research کے لیے بھی ایک قیمتی موقع فراہم کرتی ہے۔
لیکن اس پیش رفت کے ساتھ informed consent، privacy اور ethical oversight بھی لازم ہوں گے۔
آخر میں ذرا اپنے ہاتھ کو دیکھیے۔
جلد کے نیچے خلیے ہیں۔
خلیوں کے اندر nucleus ہے۔
nucleus کے اندر chromosomes ہیں۔
chromosomes کے اندر DNA ہے۔
اور DNA کے اندر صرف چار کیمیائی حروف میں لکھی ہوئی ایک عظیم sequence موجود ہے:
A، T، C اور G۔
یہ sequence اس شخص کی تعمیر اور زندگی کے نظام کو تشکیل دینے میں مدد دیتی ہے جسے آپ “میں” کہتے ہیں۔
یہ آپ کو آپ کے والدین سے جوڑتی ہے۔ آپ کے biological ancestry کے آثار اپنے اندر رکھتی ہے۔ بیماریوں کے بعض موروثی خطرات کے بارے میں اشارہ دے سکتی ہے۔ ڈاکٹروں کو علاج کے انتخاب میں مدد دے سکتی ہے۔ کسی نامعلوم شخص کی شناخت میں کام آ سکتی ہے۔ اور مستقبل میں شاید بعض بیماریوں کو ان کے ظاہر ہونے سے پہلے روکنے میں بھی مدد دے۔
جدید سائنس نے ہمیں انسانی جسم کو صرف اعضاء کے مجموعے کے طور پر دیکھنے سے آگے بڑھا کر ایک نہایت پیچیدہ information system کے طور پر سمجھنے کا موقع دیا ہے۔
زندگی صرف مادہ نہیں۔
زندگی معلومات بھی ہے۔
اور اس معلومات کا آغاز microscopic سطح پر ہوتا ہے۔
ہم نے زندگی کی کتاب کے کچھ حروف پڑھنا سیکھ لیے ہیں۔
لیکن اس کی پوری زبان ابھی سمجھنا باقی ہے۔
اور شاید سب سے بڑا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر یہ غیر معمولی molecular record صدیوں اور ہزاروں برس تک لیے پھرتا رہا، اس وقت بھی جب اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایسا کوئی record اس کے جسم میں موجود ہے۔
ہم جتنا اپنے اندر جھانکتے ہیں، اتنا ہی حیرت کا ایک نیا دروازہ کھلتا جاتا ہے۔


