لندن + نیویارک :تیل کی قیمتوں میں منگل کو اضافہ ہوا کیونکہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد رسد میں تعطل کے خدشات برقرار رہے۔ حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند ہوگئی، جس سے خلیج میں تیل کی ترسیل کے خطرات کم کرنے کی کوششوں پر بھی شکوک پیدا ہوگئے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 1.24 ڈالر یا 1.18 فیصد اضافے سے 106.93 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.29 ڈالر یا 1.24 فیصد بڑھ کر 102.65 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے جاری شدید بحران اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان امریکہ کے ہنگامی تیل کے ذخائر (Strategic Petroleum Reserve) کم ہو کر تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آ گئے ہیں، جو 1982 کے بعد اب تک کا سب سے کم ترین ذخیرہ ہے۔
دوسری طرف گزشتہ ہفتے امریکہ کا اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو گر کر محض 285 ملین بیرل پر آ گیا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس سے قبل رونالڈ ریگن کے پہلی مدت صدارت میں یہ ذخائر اتنے کم درجے پر پہنچے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ان ذخائر کو جان بوجھ کر خالی کیا جا رہا ہے جو کہ مارکیٹ میں 172 ملین بیرل تیل جاری کرنے کے ایک حکومتی معاہدے کا حصہ ہے۔ تاہم، اس تمام صورتحال میں اصل تشویشناک نکتہ یہ ہے کہ اسٹریٹجک ریزرو کا بنیادی مقصد کیا ہے۔ یہ ہنگامی ذخائر دراصل اس وقت کے لیے بنائے گئے تھے جب کوئی جنگ، پابندی یا سمندری ناکہ بندی عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کو اچانک معطل کر دے، تاکہ واشنگٹن کے پاس ایک مضبوط بیک اپ یا حفاظتی کشن موجود ہو۔ اب جب کہ مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کا نقشہ انتہائی غیر یقینی اور خطرناک دباؤ کا شکار ہے، امریکہ کا یہ حفاظتی کشن خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے، جس سے توانائی کے ماہرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

