نئی دہلی: نئی دہلی میں منعقد ہونے والے 18ویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے دوران سفارتی آداب کو ہوا میں اڑانے کا ایک اور شرمناک اور مضحکہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر طوفان کی طرح وائرل ہو رہی ہے۔ اجلاس کے دوران بھارتی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال دنیا کے اہم ترین رہنماؤں کے سامنے بڑے آرام سے خشک میوہ جات اور اخروٹ کا ڈبہ کھول کر بیٹھ گئے اور ”پھکے “ مارتے رہےکیمرے کی آنکھ نے انہیں ہاتھ رنگے پکڑ لیا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، رندھیر جیسوال عین ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بالکل پیچھے نشست پر براجمان تھے جب وہ ایک انتہائی سنجیدہ اور رسمی خطاب فرما رہے تھے۔ اس دوران کیمرے میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ترجمان وزارتِ خارجہ بار بار اپنے اسنیکس کے ڈبے میں ہاتھ ڈال کر نہایت انہماک سے میوہ جات چبا رہے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انگلیاں تک چاٹیں۔ یہ سلسلہ اس وقت تک بلا تعطل جاری رہا جب تک ان کے کسی عملے یا ہینڈلر نے مداخلت کر کے ان سے وہ ڈبہ چھین کر غائب نہیں کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اجلاس میں صرف رندھیر جیسوال ہی اکیلے نہیں تھے جو بھوک مٹانے میں مصروف تھے، بلکہ اس سے قبل ایک اور الگ کلپ میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈووال کو بھی روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تقریر کے دوران بڑے مزے سے گری دار میوے چباتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام اور فیس بک پر یہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو چکی ہیں، جہاں صارفین کی جانب سے اس پر شدید طنز کیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے بین الاقوامی اور سنجیدہ نوعیت کے فورمز پر جہاں دنیا بھر کی نظریں لگی ہوں، اس طرح کھلے عام منہ چلانا اور سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھنا انتہائی غیر پیشہ ورانہ حرکت ہے، جس نے عالمی سطح پر بھارت کی کرکری کرا دی ہے۔

