بیجنگ/لاس اینجلس: دنیا بھر کی توجہ حاصل کرنے کے شوقین معروف کرپٹو ارب پتی اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے انوکھے کردار جسٹن سن (Justin Sun) نے ایک ایسا انوکھا اور تماشا بن جانے والا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس نے سب کو دنگ کر رکھا ہے۔
چین کی ہائی پروفائل ٹیکنالوجی انڈسٹری اس ہفتے ایک ایسے عجیب و غریب مقدمے کی زد میں رہی جہاں ایک کرپٹو ٹائیکون نے اپنی سابقہ منگیتر کے والدین پر کروڑوں روپے (برائیڈ پرائس/جہیز) کی واپسی کے لیے عدالت میں کیس دائر کر دیا ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ جسٹن سن نے اپنی منگیتر جِنگ تیان (Jing Tian) کے خاندان کو منگنی کے دوران بطور "برائیڈ پرائس” 4.5 ملین ڈالر (ساڑھے 4 ملین ڈالر) کی خطیر رقم منتقل کی تھی۔ تاہم، جب یہ منگنی انجام کو نہ پہنچ سکی اور ٹوٹ گئی، تو اس رقم کو ہضم کرنے کے بجائے جسٹن سن نے اسے واپس لینے کے لیے ملک کے سب سے مہنگے اور نامور وکیل کی خدمات حاصل کر لیں تاکہ پائی پائی کا حساب چکتا کیا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ڈکٹ ٹیپ کے ذریعے دیوار کے ساتھ چپکائے گئے ایک عام سے کیلے کو خرید کر سرعام چبَا ڈالا تھا، جس کی قیمت حیرت انگیز طور پر 6.2 ملین ڈالر ادا کی گئی تھی۔
اس پورے سنسنی خیز تنازع کے دوران جسٹن سن نے ایک اور ایسا ہوشربا راز بھی فاش کیا ہے جس نے سب کو ہنسا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے سروگیسی (رحم کرائے پر لینے/surrogacy) کے مد میں 50 ملین ڈالر خرچ کرنے سے پہلے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ماڈل سے مشورہ کیا تھا، اور چیٹ بوٹ کے منع کرنے پر انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ یہ تاریخ کا شاید پہلا ایسا ریکارڈ شدہ واقعہ ہے جہاں ایک روبوٹک چیٹ بوٹ نے کسی ارب پتی کو کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھانے سے بچا لیا، وہ باتیں کہہ کر جو شاید اس کے اپنے دوست بھی بتاتے ہوئے شرما رہے تھے۔
62 لاکھ ڈالر کا کیلا کھانے والا کرپٹو ارب پتی اپنی سابقہ منگیتر سے ساڑھے 4 ملین ڈالر واپس لینے کی عدالت پہنچ گیا


