Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

      پاکستان کا ایک اور اعزاز "NUST” کے 45 محققین دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل

      ” اب کسی کو نوکری کی ضرورت نہیں رہے گی” — وائٹ ہاؤس سے ایلون مسک کا دنیا کو تاریخی پیغام

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کارو درہ: لاشوں کی بے حرمتی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

     تحریر: ریاض ابوالخیل

      جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

     

    کبھی کبھی غربت انسان کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ صرف ایک سانس کا رہ جاتا ہے۔ ضلع دیر بالا کے علاقے کارو درہ کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے تین محنت کش جوان بھی اپنے گھروں کے چولہے جلانے، بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے اور اپنے خاندانوں کا سہارا بننے کے لیے کوئٹہ کی ایک کوئلے کی کان میں اترے تھے، مگر بدقسمتی سے وہاں دم گھٹنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔
    یہ پہلا سانحہ نہیں۔ ماضی میں بھی دیر بالا سمیت خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں کے غریب مزدور رزق کی تلاش میں کوئلے کی کانوں کا رخ کرتے رہے ہیں اور انہی تاریک سرنگوں میں زندگی کی روشنی ہمیشہ کے لیے بجھتی رہی ہے۔ کوئی جوان باپ بچوں کو یتیم کر گیا، کوئی ماں کا سہارا چھین گیا اور کسی گھر کا واحد کفیل واپس نہ آ سکا۔
    مگر اس سانحے کا ایک اور پہلو بھی انتہائی افسوسناک ہے۔
    جن مزدوروں نے اپنی جانیں قربان کیں، جن کے جسموں کو عزت و احترام کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں تک پہنچایا جانا چاہیے تھا، ان کی میتوں کو ایمبولینسوں کی چھتوں پر تابوت باندھ کر لایا گیا۔ یہ منظر صرف چند خاندانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
    کیا ایک مزدور کی زندگی کی قیمت صرف اتنی ہے کہ وہ مر جائے تو اس کی میت بھی مناسب احترام کی مستحق نہ رہے؟
    کیا غربت انسان سے اس کا حقِ زندگی چھیننے کے بعد اس کا حقِ احترام بھی چھین لیتی ہے؟
    اخگرام بازار میں میتوں کے ساتھ روا رکھے گئے اس سلوک کے خلاف ہونے والا احتجاج دراصل صرف چند لواحقین کا احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ اس اجتماعی بے حسی کے خلاف آواز تھی جو غریب مزدوروں کو زندہ بھی بے بس سمجھتی ہے اور مرنے کے بعد بھی ان کے وقار کا خیال نہیں رکھتی۔
    ان تین گھروں میں آج ماتم ہے۔ کسی کے آنگن سے جوانی کا جنازہ اٹھا ہے، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہے اور کسی بوڑھی ماں کی آنکھیں اس سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں کہ اس کا بیٹا رزق کمانے گیا تھا، آخر اس کی میت کو بھی عزت کیوں نہ مل سکی؟
    متعلقہ کمپنیوں کی ذمہ داری صرف مزدوروں سے کام لینا اور ان کی محنت سے فائدہ اٹھانا نہیں۔ مزدور کی حفاظت، حادثے کی صورت میں بروقت امداد اور جاں بحق ہونے والے مزدور کی میت کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ اس کے گھر تک پہنچانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
    اسی طرح حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی اس واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر غریب مزدور ہمارے ملک کی معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں تو ان کی جان، سلامتی اور عزت کی حفاظت بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
    کارو درہ کے ان تین گھروں سے اٹھنے والا دھواں صرف تین چولہوں کے بجھنے کی داستان نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا دھواں ہے۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، میتوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا ذمہ دار طے کیا جائے، متعلقہ کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستقبل میں کسی بھی مزدور کی میت کو اس طرح بے توقیری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    غریب مزدور مرنے کے بعد بھی عزت کا حق دار ہے۔
    وہ کوئلے کی کان میں کوئلہ بن کر نہیں گیا تھا؛
    وہ اپنے گھر کے چراغ روشن کرنے گیا تھا۔
    مگر افسوس!
    وہ خود تو اندھیری کان میں بجھ گیا، اور واپسی پر اس کی میت بھی ہمارے ضمیر کے لیے ایک سوال بن کر آ گئی۔

    Related Posts

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    مقبول خبریں

    حق سچ کی آواز اٹھانے والے صحافیوں پر ظلم و تشدد بند ہونا چاہیے: مریم نواز

    یوتھ ایمپاورمنٹ کے لیے مریم نواز کا تاریخی اقدام: اگلے 3 سالوں میں 10 لاکھ نوجوانوں کی سکل ڈویلپمنٹ کا ہدف مقرر؛ 13 زبانوں کا کورس شروع کرنے کی منظوری!

    افغان چوکیوں سے بلااشتعال فائرنگ پر پاک فوج کی جوابی کارروائی، طالبان پوسٹیں چھوڑ کر فرار

    ٹرمپ یاہو کا ٹیلیفونک رابطہ،اہم تبادلہ خیال،ایران نے معاہدہ نہ کیا توامریکامعاملہ جلد نمٹا دے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

    ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان فضائی آپریشن شدید متاثر: اکاسا ایئر کا پروازوں کی معطلی میں توسیع کا اعلان

    بلاگ

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    درگاہ حضرت سچل سرمستؒ

     فصلی بٹیروں سے بچیے!

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.