تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

کبھی کبھی غربت انسان کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ صرف ایک سانس کا رہ جاتا ہے۔ ضلع دیر بالا کے علاقے کارو درہ کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے تین محنت کش جوان بھی اپنے گھروں کے چولہے جلانے، بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانے اور اپنے خاندانوں کا سہارا بننے کے لیے کوئٹہ کی ایک کوئلے کی کان میں اترے تھے، مگر بدقسمتی سے وہاں دم گھٹنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے۔
یہ پہلا سانحہ نہیں۔ ماضی میں بھی دیر بالا سمیت خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں کے غریب مزدور رزق کی تلاش میں کوئلے کی کانوں کا رخ کرتے رہے ہیں اور انہی تاریک سرنگوں میں زندگی کی روشنی ہمیشہ کے لیے بجھتی رہی ہے۔ کوئی جوان باپ بچوں کو یتیم کر گیا، کوئی ماں کا سہارا چھین گیا اور کسی گھر کا واحد کفیل واپس نہ آ سکا۔
مگر اس سانحے کا ایک اور پہلو بھی انتہائی افسوسناک ہے۔
جن مزدوروں نے اپنی جانیں قربان کیں، جن کے جسموں کو عزت و احترام کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں تک پہنچایا جانا چاہیے تھا، ان کی میتوں کو ایمبولینسوں کی چھتوں پر تابوت باندھ کر لایا گیا۔ یہ منظر صرف چند خاندانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
کیا ایک مزدور کی زندگی کی قیمت صرف اتنی ہے کہ وہ مر جائے تو اس کی میت بھی مناسب احترام کی مستحق نہ رہے؟
کیا غربت انسان سے اس کا حقِ زندگی چھیننے کے بعد اس کا حقِ احترام بھی چھین لیتی ہے؟
اخگرام بازار میں میتوں کے ساتھ روا رکھے گئے اس سلوک کے خلاف ہونے والا احتجاج دراصل صرف چند لواحقین کا احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ اس اجتماعی بے حسی کے خلاف آواز تھی جو غریب مزدوروں کو زندہ بھی بے بس سمجھتی ہے اور مرنے کے بعد بھی ان کے وقار کا خیال نہیں رکھتی۔
ان تین گھروں میں آج ماتم ہے۔ کسی کے آنگن سے جوانی کا جنازہ اٹھا ہے، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا ہے اور کسی بوڑھی ماں کی آنکھیں اس سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں کہ اس کا بیٹا رزق کمانے گیا تھا، آخر اس کی میت کو بھی عزت کیوں نہ مل سکی؟
متعلقہ کمپنیوں کی ذمہ داری صرف مزدوروں سے کام لینا اور ان کی محنت سے فائدہ اٹھانا نہیں۔ مزدور کی حفاظت، حادثے کی صورت میں بروقت امداد اور جاں بحق ہونے والے مزدور کی میت کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ اس کے گھر تک پہنچانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی اس واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر غریب مزدور ہمارے ملک کی معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں تو ان کی جان، سلامتی اور عزت کی حفاظت بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کارو درہ کے ان تین گھروں سے اٹھنے والا دھواں صرف تین چولہوں کے بجھنے کی داستان نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا دھواں ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، میتوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا ذمہ دار طے کیا جائے، متعلقہ کمپنی کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستقبل میں کسی بھی مزدور کی میت کو اس طرح بے توقیری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
غریب مزدور مرنے کے بعد بھی عزت کا حق دار ہے۔
وہ کوئلے کی کان میں کوئلہ بن کر نہیں گیا تھا؛
وہ اپنے گھر کے چراغ روشن کرنے گیا تھا۔
مگر افسوس!
وہ خود تو اندھیری کان میں بجھ گیا، اور واپسی پر اس کی میت بھی ہمارے ضمیر کے لیے ایک سوال بن کر آ گئی۔

