تحریر:قیصر راجہ راجپوت
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

معصوم بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے نازک اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹ، معصومیت اور بے فکری دراصل ایک محفوظ معاشرے کی پہچان ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال کے واقعات میں اضافہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔یہ صرف ایک بچے کے ساتھ ہونے والا ظلم نہیں بلکہ پوری انسانیت، خاندان اور معاشرے کے ضمیر پر ایک سوال ہے۔ جس عمر میں بچوں کو تعلیم، کھیل، محبت اور تحفظ ملنا چاہیے، اس عمر میں اگر انہیں خوف، اذیت اور ذہنی صدمے کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے اثرات پوری زندگی ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اکثر ایسے واقعات میں بچے خوف، شرمندگی یا دھمکی کی وجہ سے اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد شخص کو حقیقت نہیں بتا پاتے۔ بعض اوقات خاندان بھی بدنامی کے خوف سے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، جو مجرموں کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔ ہمیں یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ بدنامی بچے کی نہیں بلکہ جرم کرنے والے شخص کی ہونی چاہیے۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو عمر کے مطابق اچھے اور برے لمس، ذاتی حدود اور کسی مشکوک رویے کے بارے میں آسان زبان میں سمجھائیں۔ بچوں کو یہ اعتماد بھی دیا جائے کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، دھمکائے یا کسی نامناسب حرکت کی کوشش کرے تو وہ بلا خوف اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو فوراً بتائیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے صرف والدین ہی نہیں بلکہ اسکول، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنما، پولیس، انتظامیہ اور پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں فوری اور شفاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ متاثرہ بچے کو انصاف ملے اور مجرم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ایسے واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت متاثرہ بچے کی شناخت اور عزتِ نفس کا تحفظ ضروری ہے۔ خبر کو سنسنی خیز بنانے کے بجائے معاشرے میں شعور اور بچوں کے تحفظ کا پیغام اجاگر کیا جانا چاہیے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ وہ اجنبیوں سے محتاط رہیں، بلکہ انہیں یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ اگر کوئی جان پہچان والا شخص بھی ان کی حدود کی خلاف ورزی کرے تو وہ فوراً آواز اٹھا سکتے ہیں۔ بچوں کو ڈانٹنے یا خاموش کرانے کے بجائے ان کی بات سننا اور ان پر یقین کرنا ضروری ہے۔
معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے خلاف خاموشی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں بچوں کی آواز بننا ہوگا۔ ہر بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خوف کے بغیر جئے، تعلیم حاصل کرے، کھیلے اور اپنے بچپن کو خوشی کے ساتھ گزارے۔آئیے ہم عہد کریں کہ ہم بچوں کے تحفظ کو صرف ایک خبر یا چند دن کی بحث نہیں بنائیں گے بلکہ اسے اپنی مستقل سماجی ذمہ داری سمجھیں گے۔ مجرم کو چھپانے کے بجائے جرم کو چھپانے کی روایت ختم کرنا ہوگی، کیونکہ بچوں کا تحفظ ہی ایک محفوظ اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔

