عمان :اردن نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام (مسجد اقصی) پر اسرائیلی قبضے کے "قریب تر” خطرے کے پیش نظر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اردنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد کے احاطے میں بڑھتی ہوئی دراندازی کے بعد اٹھایا گیا ہے، جو اردن کی نگرانی میں چلنے والے تاریخی ‘اسٹیس کو’ (Status Quo) معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 23 جولائی کو قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی قیادت میں 2 ہزار سے زائد انتہا پسندوں نے احاطے میں دھاوا بول کر مذہبی رسومات ادا کی تھیں۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے خبردار کیا ہے کہ القدس اس وقت ایک بارود کا ڈھیربن چکا ہے، اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کو ایک ہولناک تصادم میں دھکیل سکتی ہے۔ اس ہنگامی اجلاس میں ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا اور پاکستان سمیت دیگر عرب ممالک کے وزرا خارجہ شرکت کریں گے۔
قبلہ اول مسجد الاقصی پر اسرائیلی قبضے کی سازش: اردن نے عرب اور اسلامی ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

