لاہور کے ایک پولیس تھانے کے اندر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی (ریپ) کے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عدالت نے اس گھناؤنے فعل میں ملوث گرفتار اے ایس آئی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے، جبکہ اعلیٰ پولیس حکام نے معاملے کی سنگین نوعیت کی تصدیق کر دی ہے۔
ایس ایس پی انوسٹی گیشن نوید قریشی نے تصدیق کی ہے کہ بظاہر یہ ہولناک واقعہ تھانے کے اندر ہی پیش آیا ہے، اور ملزم اے ایس آئی سے سخت تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی (جو مبینہ طور پر بھیک مانگتی تھی) کا میڈیکل معائنہ کرا لیا گیا ہے اور اب حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔
پولیس حکام نے اعتراف کیا ہے کہ مذکورہ لڑکی نہ تو کسی مقدمے میں نامزد تھی اور نہ ہی پولیس کو کسی کیس میں مطلوب تھی، اس کے باوجود اے ایس آئی اسے بغیر کسی جواز یا قانونی وجہ کے موٹر سائیکل پر بٹھا کر زبردستی تھانے کے اندر لے کر آیا جو سراسر سنگین مس کنڈکٹ اور اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔
پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) نے جائے وقوعہ سے تمام اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جو تفتیش میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ ابتدائی طور پر پولیس کا یہی مؤقف ہے کہ اس واقعے میں کوئی اور اہلکار براہِ راست ملوث نہیں ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق، جب متاثرہ لڑکی روتی ہوئی اپنے گھر پہنچی اور لواحقین نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی، تو اس نے آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ ایک پولیس والا اسے زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھا کر تھانے لے گیا تھا جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اس دلخراش واقعے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے مزید قانونی کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔
ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی ، گرفتار اے ایس آئی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور،زبردستی تھانے میں لے کر آیا، ایس ایس پی

