سیدانعام علی کاظمی کی رپورٹ
وزیرِ پیٹرولیم کی زیرِ صدارت آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیٹرول پمپ مالکان کو درپیش مسائل اور ان کی جانب سے ہڑتال کی کال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اجلاس میں سیکریٹری پیٹرولیم، چیئرمین اوگرا ()، ایڈیشنل سیکریٹری (پالیسی)، ڈائریکٹر جنرل ایکسپلوسوز () اور ڈائریکٹر جنرل آئل () نے بھی شرکت کی۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد درج ذیل فیصلے کیے گئے:
1. بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر روزانہ قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقۂ کار () بدستور جاری رہے گا۔ تاہم، دو ہفتوں بعد پیٹرول پمپ مالکان اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
2. فریقین نے اتفاق کیا کہ پیٹرول ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کا معاملہ فوری طور پر متعلقہ فورم کے سامنے دوبارہ پیش کیا جائے گا۔
3. یہ بھی طے پایا کہ وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا، محکمہ ایکسپلوسوز سے متعلق مسائل، پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی () اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں () اور ڈیلرز کے درمیان معاہدوں سے متعلق امور کے حل میں سہولت فراہم کریں گے تاکہ توازن برقرار رکھا جا سکے۔
4. فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں جانب سے ایک ایک فوکل پرسن نامزد کیا جائے گا تاکہ باہمی رابطے اور روزمرہ ہم آہنگی کے ذریعے مسائل کے حل کو مؤثر بنایا جا سکے۔
5. یہ بھی طے پایا کہ وزارتِ پیٹرولیم کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی پر عائد ٹرانزیکشن چارجز کے معاملے کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے ساتھ اٹھائے گی تاکہ اس اضافی کاروباری لاگت کا مناسب حل نکالا جا سکے
دوسری جانب آل پاکستان پیٹرولیم ایسوسی ایشن کے رہنما ہمایوں خان نے ہڑتال کی کال واپس لینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ہڑتال جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات سے وابستہ تمام افراد، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، احتجاج میں بھرپور حصہ لیں اور پیٹرول پمپ مالکان ہڑتال کا مکمل ساتھ دیں۔
ہمایوں خان نے مزید کہا کہ جب تک وہ خود باضابطہ طور پر ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان نہیں کرتے، اس وقت تک تمام متعلقہ افراد احتجاج جاری رکھیں اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت کے بائیکاٹ پر عمل درآمد کریں۔

