اسلام آباد:مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے ایک اور بری خبر؛ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے ملک بھر کی قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس کی شرح میں دوبارہ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ نئے نرخ 10 جولائی سے پورے ملک میں نافذ العمل ہو چکے ہیں، جس کے بعد سفر کرنا عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی شاہراہوں پر کار کا ٹول ٹیکس 100 روپے، ویگن کا 200 روپے اور بس کا 300 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بڑے ٹرکوں کو ہر ٹول پلازہ پر 400 سے 700 روپے تک ادا کرنا ہوں گے۔
موٹرویز پر ٹیکس کا نیا اسٹرکچر:
اسلام آباد تا پشاور (M-1): کار کے لیے 700 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
M-3: کار کا ٹیکس 1000 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
M-4: کار کے لیے 1350 روپے جبکہ بڑے ٹرکوں کو ان روٹس پر 2700 سے 6500 روپے تک ٹیکس دینا ہوگا۔
M-5 اور M-14: ان موٹرویز پر کار کا ٹول ٹیکس بالترتیب 1500 اور 800 روپے جبکہ ویگن کے لیے 2200 اور 1400 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ ٹول ٹیکس میں اس اضافے سے نہ صرف مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اشیاءِ خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاشی حالات کے پیشِ نظر اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے تاکہ عام مسافروں پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر سفر کتنا مہنگا ہو گیا؟ نئے ٹول ٹیکسز کا نوٹی فیکیشن جاری

