پیرس: فرانس میں جاری جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے دوران ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس نے عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیوں کو جنم دے دیا ہے۔ اجلاس کے اختتامی مراحل میں لیڈرز کے گروپ فوٹو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ رویہ خبروں کی زینت بن گیا ہے۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب عالمی رہنما گروپ فوٹو کے لیے اکٹھے ہوئے، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی جگہ پر پہنچے اور وہاں موجود دیگر رہنماؤں کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی ان کے قریب موجود تھے، تاہم ٹرمپ نے مودی کی جانب دیکھنے، مصافحہ کرنے یا کسی بھی قسم کا کوئی ظاہری اشارہ کرنے سے گریز کیا۔ ٹرمپ کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا اور انہوں نے مودی کی موجودگی کا کوئی نوٹس نہیں لیا، جس کے بعد سے یہ معاملہ سوشل میڈیا اور سفارتی مبصرین کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں
عالمی سیاست کے ماہرین اس واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ اسے محض ایک اتفاق قرار دے رہے ہیں، وہیں بڑی تعداد اسے دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی ممکنہ سرد مہری یا پالیسی اختلافات کا شاخسانہ سمجھتی ہے۔ عالمی سربراہی اجلاسوں میں اس طرح کی ‘باڈی لینگویج’ (Body Language) انتہائی معنی خیز سمجھی جاتی ہے، کیونکہ عام طور پر عالمی رہنماؤں کے مابین مصافحہ اور دوستانہ انداز ایک معمول کا حصہ ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے درمیان تعلقات کافی گرمجوش رہے ہیں، تاہم جی سیون جیسے اہم فورم پر اس طرح کا رویہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ امریکی صدر کا مخصوص انداز ہے، جبکہ کچھ ناقدین اسے سفارتی پیغام رسانی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
فی الحال، دونوں جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، کیمرے کی آنکھ نے جو لمحہ محفوظ کیا ہے، وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی سیاست کے منظرنامے میں کوئی بھی چیز محض اتفاق نہیں ہوتی۔ کیا یہ واقعی ایک "سفارتی نظر انداز” (Diplomatic Snub) تھی یا محض ایک وقتی تاثر، اس پر بحث آنے والے دنوں میں مزید زور پکڑے گی۔

