سڈنی: کیا انسانیت ایک بڑے موسمیاتی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے؟ آسٹریلیا کے محکمہ موسمیات نے ایک انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے کہ بحرالکاہل میں ‘ایل نینو’ (El Niño) کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جو 2026 کے دوسرے نصف میں شدت اختیار کر کے گزشتہ سات دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، بحرالکاہل کے مرکزی حصے میں سمندری سطح کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور موجودہ صورتحال 1950 کے بعد سے اب تک کے سب سے طاقتور ایل نینو کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ‘کلائمیٹ چینج’ اس قدرتی مظہر کی شدت کو مزید "سپر چارج” کر رہا ہے، جس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔
دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم انٹارکٹیکا کے جزیرہ نما علاقے میں شدید اور غیر معمولی گرمی کی لہر نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔6 جون کو ارجنٹائن کے ایسپرانزا ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت15.4ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے اور معمول سے تقریباً 20 ڈگری زیادہ ہے
دنیا کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
یہ موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے:
امریکا: یہاں معمول سے کہیں زیادہ شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ ہے۔
ایشیا: اس خطے میں خشک سالی اور شدید گرمی کی لہر فصلوں کی کاشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس سے دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے خطے میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آسٹریلیا :آسٹریلیا کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ ایل نینو ماضی میں بھی ملک کی زرعی پیداوار کو تباہ کر چکا ہے۔ گندم، چینی اور بیف کے دنیا کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل آسٹریلیا میں اس سے قبل 2023-2024 میں ایل نینو کے باعث تاریخ کی خشک ترین سہ ماہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ 2015-2016 کے دوران آنے والے شدید ایل نینو نے بڑے پیمانے پر قحط جیسی صورتحال پیدا کر دی تھی جس سے اناج کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی تھی۔
کیا دنیا اس ممکنہ "سپر ایل نینو” کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، یا ہم ایک بار پھر عالمی غذائی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ یہ سوال اب ماہرین کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے ذہنوں میں بھی موجود ہے۔
تاریخی موسمیاتی تباہی ؟ آسٹریلیا نے خطرے کی گھنٹی بجادی، طاقتور ’ایل نینو‘ کا 70 سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ!

