پیرس/فرانس: فرانس میں جاری جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے آخری روز دنیا کی سات بڑی معاشی طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اہم اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں لبنان میں فوری اور مضبوط جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جی سیون ممالک لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ اعلامیے کے مطابق، "ہم لبنان میں فوری اور مستحکم جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں، جس کا مقصد لبنانی قیادت کی ان کوششوں کو کامیاب بنانا ہے جن کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے اور ملک میں ہتھیاروں کا اختیار صرف ریاستی اداروں کے پاس ہو۔” عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے مناسب بین الاقوامی سیکیورٹی گارنٹی بھی فراہم کی جائیں گی۔
جی سیون رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک "تاریخی موقع” اور بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا کے سربراہان نے اس معاہدے کے حصول میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور ثالثی کرنے والے ممالک کے کردار کو سراہا۔
اعلامیے میں کہا گیا: "یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے اور خطے میں اس کی بیلسٹک سرگرمیوں سے لاحق خطرات کو ختم کرنے کا ایک تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم اس معاہدے کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
جی سیون نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس کی زیرِ قیادت ایک اقدام کے ذریعے آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ تاہم، رہنماؤں نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ابھی مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
جی سیون کا لبنان میں ‘فوری جنگ بندی’ کا مطالبہ؛ امریکہ-ایران معاہدے کو ‘تاریخی پیش رفت’ قرار دے دیا

