ہنگورجہ (رپورٹ بیوروچیف بے نقاب نیوز )
ہنگورجہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں خطرناک منشیات "آئس” کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان معاشی، سماجی اور اخلاقی تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ شہریوں، والدین اور سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئس کا نشہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔مقامی رہائشیوں کے مطابق آئس کے عادی ہونے والے کئی نوجوان تعلیم، روزگار اور گھریلو ذمہ داریوں سے دور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد گھروں میں جھگڑے، قرض اور خاندانی تنازعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے نوجوان بچے اس مہلک نشے کی لپیٹ میں آ کر اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔سماجی رہنماؤں کے مطابق آئس ایک انتہائی خطرناک منشیات ہے جو استعمال کرنے والے کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ کئی معاملات میں یہ نوجوانوں کو جرائم، تشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف بھی دھکیل دیتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسی منشیات نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں، تعلیمی کارکردگی اور سماجی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ محکمے آئس کی فروخت اور سپلائی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں۔ ساتھ ہی والدین، اساتذہ اور سماجی تنظیموں کو بھی نوجوانوں میں آگاہی مہم چلانی چاہیے تاکہ نئی نسل کو اس موذی لعنت سے بچایا جا سکے۔
ہنگورجہ کے باشعور شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئس کا نشہ مزید خاندانوں کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔

