ہنگورجہ رپورٹ: فیاض محسن سولنگی
رسول آباد سے رانی پور تک نیشنل ہائی وے پر جاری تعمیراتی کام کی سست رفتاری کے باعث یہ اہم شاہراہ مسافروں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ سڑک کی نامکمل تعمیر، حفاظتی انتظامات کی کمی، گڑھوں، گردوغبار اور غیر ہموار سطح کی وجہ سے روزانہ حادثات معمول بن گئے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رسول آباد، ہنگورجہ اور رانی پور سمیت مختلف علاقوں کو ملانے والی یہ نیشنل ہائی وے کافی عرصے سے زیر تعمیر ہے، تاہم کام کی رفتار انتہائی سست ہونے کے باعث نہ صرف مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ حادثات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑک کے کئی حصوں پر بڑے بڑے گڑھے، مٹی کے ڈھیر اور متبادل راستے (ڈائیورشن) موجود ہیں، جبکہ رات کے وقت روشنی اور انتباہی بورڈز کی عدم موجودگی ڈرائیوروں کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہے۔مقامی رہائشیوں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سماجی حلقوں کے مطابق متعدد بار متعلقہ حکام کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی، مگر اب تک صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ چھوٹے بڑے حادثات پیش آتے ہیں جن میں معصوم بچے، خواتین، نوجوان اور بزرگ متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک اب ترقی کی علامت کے بجائے موت کی وادی بن چکی ہے۔ خاص طور پر تیز رفتار ٹرکوں، ٹرالروں اور دیگر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کے دوران حادثات کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ سڑک کی خستہ حالی کے باعث گاڑیاں بے قابو ہو جاتی ہیں جس سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
مکینوں نے حکومت،، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ٹھیکیداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ رسول آباد سے رانی پور تک سڑک کی تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

