تحریر حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
میرے ایک گذشتہ کالم کا اقتباس۔۔۔۔جس میں "نوشتہ دیوار سامنے ہے۔۔۔۔اسے ضرور پڑھیئے” کے عنوان کے تحت لکھا گیا تھا کہ:-
"موجودہ حکمران جماعت کو اپوزیشن کی کسی بھی پارٹی سے بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان پارٹیوں میں اب اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ صوبوں خصوصا” پنجاب میں حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دے سکیں کیونکہ میڈم مریم نواز نے بہر حال اپنی کارکردگی کی بناء پر عوام کی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم حکمران جماعت کو اگر خطرہ ہے تو وہ حقیقت میں اسکی اپنی اختیار کردہ پالیسیوں سے ہے کیونکہ وفاق کی اختیار کردہ ان پالیسیوں کی بناء پر عوام کا جینا محال ہوا ہے۔نوشتہ دیوار سامنے ہے اور اسے پڑھنا کوئی اتنا زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ وہ سامنے ایک حقیقت بن کر دکھائی دے رہا ہے۔اب آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں تو یہ اور بات ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بناء پر چیزیں اس وقت عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔سفید پوش طبقہ جو اس صورت حال سے بہت زیادہ متاثر دکھائی دیتا ہے وہ الگ سے ایک سلگتا ہوا سوال ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں۔! کہ عوام الناس کے یہ طبقات کیا اس صورت حال پر ہمیشہ یونہی خاموش رہیں گے۔میرے خیال میں بالکل بھی نہیں کیونکہ دانشور کہتے ہیں کہ خاموشی بھی ایک طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور اگر عوام کو ریلیف نہ ملا تو جلد یا بدیر اس طوفان نے آنا ہی آنا ہے۔اس وقت یقینا” آپ کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا اور ضرور ہوگا لیکن اس وقت ٹائم گزر چکا ہوگا کیونکہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔”
دوسری طرف یہ کہا گیا تھا کہ وفاق میں شہباز شریف حکومت کی کچھ پالیسیاں ایسی ہیں جو صوبہ پنجاب میں مریم نواز حکومت کے اچھے کاموں کو بھی ناکامی سے دوچار کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ہر سات دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یکدم بہت زیادہ بڑھایا جانا اور پھر آہستہ آہستہ اور تھوڑی تھوڑی مقدار میں گھٹایا جانا اور ساتھ ہی بجلی کے بلوں پر لگایا گیا فکسڈ ٹیکس اور باقی تیرہ قسم کے ظالمانہ اور ناروا ٹیکسز کا لگایا جانا شامل ہے۔گویا یہ حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت کی غلط اور غریب کش پالیسیوں کا اثر بھی صوبہ پنجاب کے ووٹ بنک پر ہی پڑنا ہے۔اتنے طویل عرصے بعد بھی ساٹھ فیصد پاکستانی اگر غربت میں جی رہے ہیں تو اسکی وجہ پاکستانی خود ہیں۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی باقی صوبوں سے ہمیشہ بہتر رہی ہے لیکن مرکزی حکومت کی بدترین کارکردگی کی وجہ سے لوگ حکومت سے نفرت کرنے لگے ہیں۔
گلگت بلتستان صوبے کے الیکشن سے ان اثرات کا آغاز ہو چکا ہے۔میاں نواز شریف اور خواجہ سعد رفیق کے بنفس نفیس الیکشن مہم چلانے کے باوجود وہاں الیکشن میں خاطر خواہ نتائج نہ ملنا اور ایک ایسی جماعت کے ہاتھوں شکست کھا جانا جس کے اپنے صوبہ میں کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے۔۔۔۔۔مسلم لیگ ن اور خاص کر میاں نواز شریف کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔میاں نواز شریف کو خاص طور پر اس طرف غور کرنا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ آپ کب تک خاموش رہ کر پارٹی کو برباد ہوتے دیکھتے رہیں گے۔؟
اگر مسلم لیگ ن کیلئے گلگت بلتستان میں اس قسم کے حالات متوقع تھے تو ہارٹی کی اعلی! قیادت کو وہان پر لے جانا بھی محل نظر ہے۔پتہ نہیں وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے میاں نواز شریف کو اس قسم کا مشورہ دیا تھا کہ وہ خود انتخابی مہم کی قیادت کریں۔
دوسری طرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ بار بار کے اضافے نے عوام کی چیخیں نِکلوا دی ہیں۔لوگ گزارہ کیسے کریں گے۔؟ باوجود اسکے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور خطے کے دوسرے ممالک میں کہیں بھی اس صورت حال کی بناء پر بے چینی نہیں ہے لیکن پاکستان میں سب کچھ اسکے برعکس ہو رہا ہے۔ گویا اب تو یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کسی خاص ایجنڈے پر عمل درامد ہو رہا ہے جس میں عوام کو ریلیف دینا ترجیح ہی نہیں ہے بلکہ اسکی اسی طرح کھال اتار کر اپنے مخصوص مفادات کیلئے پیسہ اکٹھا کرنا مقصد ہے۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حالات اب سابقہ روٹین پر بھی آ جائیں تو جنگ سے پہلے والی قیمتیں اب کسی بھی صورت واپس نہیں آئیں گی۔اسی لئے شائد ایک پلیننگ کے تحت اور جان بوجھ کر یہ صورت حال پیدا کی جا رہی ہے تاکہ پیٹرولیم کی قیمتوں کو کسی وقت واپس لے بھی جانا پڑے تو وہ کم از کم اتنی تو ہوں جو انکے مقاصد کی بجا آوری کیلئے ضروری ہوں۔گویا اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ عوام جتنا مرضی چیخ و پکار اور واویلا کر لے اسکے بارے میں سوچنے والا اب کوئی نہیں ہے۔کوئی نہیں ہے۔اگر یہی صxورت حال برقرار رہتی ہے تو خدا نہ کرے پنجاب میں بھی گلگت بلتستان جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں جوکہ حکمران پارٹی اور اسکی لیڈر شپ کیلئے کوئی چنداں خوشگوار نہیں ہونگے۔


