نیویارک/عالمی منڈی: ایران پر تازہ امریکی حملوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے اثرات سب سے پہلے سونے کی قیمتوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ منگل کے روز سونے کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر اوپر کی جانب گامزن ہیں۔
جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی منڈیوں میں افراطِ زر کا دباؤ بڑھے گا، جس کے نتیجے میں مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ سود کی بلند شرح عام طور پر سونے جیسی غیر منافع بخش اثاثوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
مارکیٹ کا تازہ ترین منظرنامہ
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:
اسپاٹ گولڈ: 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 4,542.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
امریکی گولڈ فیوچرز: جون کی ڈیلیوری کے لیے سونے کے نرخ 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,542.80 ڈالر تک پہنچ گئے۔
سونے کی قیمت میں 2,400 روپے فی تولہ کی کمی ہوئی، جس کے بعد سونا 475,362 روپے فی تولہ کی سطح پر آ گیا۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (اے پی جی جے ایس اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2,057 روپے کی کمی کے بعد 407,546 روپے ریکارڈ کی گئیدوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان رہا اور یہ 153 روپے سستی ہو کر 8,117 روپے فی تولہ پر بند ہوئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.98 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ گزشتہ سیشن میں ان کی قیمت میں 7 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 91.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ معاشی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا خوف پیدا کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مارکیٹ پر نظر رکھنے والے افراد اب امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں اور عالمی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

