لاہور: لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی ویڈیو وائرل کرنے کے شرمناک واقعے پر پنجاب حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار افسران اور عملے کو پیڈا ایکٹ (PEDA Act) کے تحت سزائیں سنا دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی حتمی منظوری کے بعد محکمہ صحت نے سزاؤں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سی سیکشن کی ویڈیو وائرل، انسانیت کو شرمندہ کرنے والوں کے خلاف بڑا ایکشن
حکومتی انکوائری میں قصوروار پائے جانے والے ملازمین کو ان کے عہدوں اور غفلت کی نوعیت کے مطابق درج ذیل سزائیں دی گئی ہیں:
ڈاکٹر عظمیٰ حسین (پروفیسر آف گائنی): فرائض میں غفلت برتنے پر ان کی باقاعدہ سرزنش (Censure) کی گئی ہے۔
ڈاکٹر فرح انعام (سابق ایم ایس): غفلت کے مرتکب ہونے پر ان کی ایک سال کی سالانہ انکریمنٹ روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر اقرا حفیظ (سینئر رجسٹرار): ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے میں براہ راست ذمہ داری پر ان کی تین سال کی سالانہ انکریمنٹ روک دی گئی ہے۔
قرا زاہد اور فوزیہ رشید (اسٹاف نرسز): ان دونوں نرسوں کی ایک سال کی ملازمت (سروس) ضبط کر لی گئی ہے۔
حسیب الرؤف (ہسپتال کک): واقعے میں ملوث ہونے پر ہسپتال کے باورچی کی بھی ایک سال کی انکریمنٹ ضبط کر لی گئی ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل لیڈی ولنگڈن ہسپتال کے لیبر روم اور وارڈز میں زیر علاج خواتین مریضوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس سے مریضوں کی رازداری اور اخلاقی اقدار بری طرح پامال ہوئی تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی عزت اور پردہ داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں اس طرح کی غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف مزید سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

