تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
انسانیت کی خدمت کا حلف اٹھانے والے جب اپنی حدود پار کر جائیں تو سوال صرف قانون کا نہیں، ضمیر کا بھی بن جاتا ہے۔ لیڈی ولنگڈن ہسپتال لاہور میں ایک مریضہ کے سی سیکشن کے دوران ویڈیو بنانے کے سنگین واقعے نے پورے طبی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔


مزید برآں، گائنی وارڈ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین کو بھی شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن کے اندر وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ جہاں ڈاکٹر کو “مسیحا” کہا جاتا ہے، وہیں چند غیر ذمہ دار رویے اس مقدس پیشے کو بدنام کر دیتے ہیں۔ مریضہ، جو زندگی اور موت کے درمیان ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے، اس کی عزت، رازداری اور تحفظ سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے


