اسلام آباد: سمندر کے بیچوں بیچ پھنسے پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی زندگیوں کو بچانے اور انہیں بحفاظت وطن واپس لانے کے لیے پاکستان نے ایک بڑے سفارتی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی فورسز کی جانب سے ضبط کیے گئے بحری جہازوں پر سوار 31 ملاحوں کی واپسی کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار خود میدان میں آ گئے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، یہ بحری جہاز اس وقت سنگاپور کی سمندری حدود کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سنگاپور کے ہم منصب ویوین بالاکرشنن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے سنگاپور کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ان جہازوں پر موجود پاکستانیوں اور ایرانیوں کی وطن واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے۔
اسحاق ڈار نے اس انسانی ہمدردی کے معاملے پر اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی مسلسل رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ پاکستان نے برادر ملک ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے 11 ملاحوں بلکہ 20 ایرانی شہریوں کی بھی پاکستان کے راستے محفوظ واپسی کے لیے ’سیف پیسج‘ (محفوظ راستہ) فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ "پاکستانی شہریوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم ایرانی بھائیوں کی مدد کے لیے بھی ہمہ وقت تیار ہیں۔” —
Spoke with Singaporean Foreign Minister H. E. Vivian Balakrishnan @VivianBala and requested Singapore’s support in facilitating the welfare and repatriation of 11 Pakistani and 20 Iranian seafarers, aboard vessels seized by U.S. authorities and currently near Singaporean waters.…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 8, 2026
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، امریکی فورسز کی تحویل میں موجود ان کشتیوں پر کل 31 افراد سوار ہیں جن میں پاکستان ملاحوں کی تعداد 11 جبکہ ایرانی ملاح 20 ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سنگاپور کی جانب سے مثبت اشارے ملنے کے بعد ملاحوں کی منتقلی کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔ پاکستان کی اس فوری اور متحرک سفارت کاری کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ قانونی یا عسکری پیچیدگی سے قبل اپنے شہریوں کو بحفاظت نکالنا ہے۔

