تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور پولیس اس وقت ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے۔ فیصل کامران، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے جس جرات کے ساتھ محکمے میں “بھل صفائی” کا آغاز کیا ہے، وہ ایک ایسے ناسور کے خلاف عملی قدم ہے جس نے برسوں سے پولیس کے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رکھا ہے۔ بارہا تنبیہ اور اصلاح کے مواقع دینے کے باوجود جب بعض افسران بھاری رشوت لینے سے باز نہ آئیں تو پھر شکنجہ کسنا ناگزیر ہو جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں موجودہ قیادت نے ایک واضح لائن کھینچ دی ہے۔ اس مہم کے تحت تھانوں میں تعینات محرر اور ماتحت افسران کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں جو کرپشن یا جرائم پیشہ عناصر سے روابط رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی، جبکہ بعض کو رائٹ مینجمنٹ فورس یا دیگر شعبوں میں منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ تاہم اصل امتحان یہی ہے کہ آیا یہ عمل صرف تبادلوں تک محدود رہتا ہے یا واقعی احتساب کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں ایک حساس مگر اہم حقیقت کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ ماضی میں ایک ایسا واقعہ پیش آ چکا ہے جب ایک ڈی آئی جی کے قریبی رشتہ دار کا نام بھی کرپٹ افسران کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد وہ فہرست ایک منصوبے کے تحت میڈیا کو لیک کر دی گئی تاکہ اسے متنازع بنا کر پوری فہرست کو مشکوک بنایا جا سکے۔ جس سے نہ صرف احتسابی عمل متاثر ہوا بلکہ کئی معاملات دباؤ اور سفارش کی نذر ہو گئے۔ یہ واقعہ اس نظام میں موجود اندرونی مزاحمت اور مفادات کے ٹکراؤ کو واضح کرتا ہے، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ نچلی سطح پر موجود افسران کی شکایات اس تصویر کو مزید واضح کرتی ہیں۔ بعض ماتحت اہلکاروں کے مطابق جب اوپر سے ہی مالی تقاضوں کا دباؤ ہو تو نیچے تک ایک غیر صحت مند کلچر جنم لیتا ہے۔ ایسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ بعض مواقع پر ذاتی اخراجات یا تقرریوں کے تناظر میں مختلف عہدوں کے مطابق رقوم طلب کی جاتی رہی ہیں۔ ایک مثال میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایک افسر نے نجی ضرورت کے لیے لاکھوں روپے جمع کیے، جبکہ بیگم کی ڈلیوری کے لئے 22 لاکھ روپے وصول کئے ایس ایچ اوز کی مجبوری تھی جبکہ نئی پوسٹنگز کے دوران مختلف رینکس سے مخصوص رقوم طلب کرنے کی روایت بھی زیر بحث رہی۔ اسی تناظر میں ایک ایسے ایماندار ڈی ایس پی کا ذکر بھی سامنے آتا ہے جس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ رشوت نہیں لیتا، اس لیے ادائیگی سے قاصر ہے جس پر اسے یہ سننے کو ملا کہ شاید وہ “غلط جگہ” پر آ گیا ہے۔ یہ بیانیہ چاہے مکمل طور پر ثابت شدہ نہ ہو، مگر اس کے اشارے نظام میں موجود خرابیوں کی طرف ضرور جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اس مہم کی شفافیت اور غیر جانبداری فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ ڈی آئی جی فیصل کامران نے اسوقت بازی بدل دی جب ڈی آئی بی کے ڈویژنل انچارجز کو حکم دیا کہ کہ وہ ایس ایچ اوز محرران اور ایس ایچ اوز کے کارخاص تھانیداروں کی فہرستیں تیار کریں یہ ایک مثبت قدم ہے، جو اس عمل کو ذاتی پسند و ناپسند سے نکال کر ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے۔ اگر اس عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دیگر انٹیلی جنس و نگرانی کے نظام کو بھی شامل کیا جائے تو نتائج زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ بالآخر، پنجاب پولیس کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر اس بار احتساب واقعی بلاامتیاز اور شفاف انداز میں آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف ادارے کے اندر اعتماد بحال ہوگا بلکہ عوام کا کھویا ہوا اعتبار بھی واپس آ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ عمل بھی ماضی کی طرح دباؤ، سفارش اور مفاہمت کی نذر ہو گیا تو یہ ایک اور ادھورا باب بن کر رہ جائے گا۔ فیصل کامران کا اقدام ایک واضح پیغام ہے کہ اب “سمجھانے” کا مرحلہ ختم ہو چکا اب عمل کا وقت ہے۔ کیا یہ عمل انجام تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔ آئندہ چند روز میں لاہور پولیس
کو بڑا سرپرائز ملنے والا ہے۔ یہ امر بھی باعثِ تشویش ہے کہ بعض وہی افسران و اہلکار، جو مالی بدعنوانی میں سر تا پا ملوث اور کرپشن کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے سمجھے جاتے تھے، انہیں سی سی ڈی میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ متعدد مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات کے باوجود وہ آج بعض اعلیٰ افسران کے نہ صرف منظورِ نظر ہیں بلکہ غیر معمولی سرپرستی اور خصوصی عنایات سے بھی
مستفید ہو رہے ہیں۔


