لاہور: (ملک ظہیر )کاہنہ کے علاقے لکھوکی میں پولیس وردی ایک بار پھر خوف کی علامت بنتی دکھائی دی، جہاں ایک شہری کو قانون کے محافظوں نے انصاف دینے کے بجائے زنجیروں میں جکڑ کر انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ واقعہ منظرِ عام پر آتے ہی پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت حرکت میں آ گئی اور آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر فوری عملدرآمد کا حکم دے دیا۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اے ایس پی آپریشنز کاہنہ آغا فصیح رحمان کو عہدے سے ہٹا کر سنٹرل پولیس آفس کلوز کر دیا گیا، جبکہ ایس ایچ او کاہنہ اسد عباس کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی چوکی انچارج لکھوکی عدنان ورک اور محرر محمد اظہر کے خلاف تھانہ کاہنہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاکہ قانون سے بالاتر سمجھنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور اختیارات سے تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پولیس وردی عوام کے تحفظ کے لیے ہے، تذلیل کے لیے نہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس ہو گی اور مثال بنائی جائے گی۔ کاہنہ پولیس کے سابق افسران کا کہنا ہے کہ لوگوں نے نشئی طارق کو چوری کے الزام میں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا اس دوران اسکی ویڈیو بن گئی طارق کو چھوڑ دیا گیا لیکن اس ویڈیو کی بنا کر ذمہ داروں اور سنئیر کے خلاف کارروائی کی گئی


