اوکاڑہ ( بے نقاب رپورٹ )اوکاڑہ میں پیش آنے والا یہ واقعہ صرف ایک جھگڑا نہیں بلکہ پولیس کے اندر بگڑتے رویّوں اور عوام کے سامنے قانون کی ساکھ پر ایک گہرا سوال ہے۔ تھانہ ستگھرہ کے ایس ایچ او سب انسپکٹر طارق اور کانسٹیبل عبداللہ کے درمیان معمولی تکرار نے اس وقت خونی رخ اختیار کر لیا جب ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل نے اپنے ہی افسر پر فائر کھول دیا۔ گولی پیٹ میں لگنے سے ایس ایچ او شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں اہلکار مشترکہ گشت پر تھے کہ تلخ کلامی بڑھتے بڑھتے اس حد تک جا پہنچی کہ قانون کے محافظ ہی قانون توڑ بیٹھے۔ فائرنگ کے بعد کانسٹیبل عبداللہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، تاہم اسےبعد ازاں پولیس نے گرفتار کرلیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او اوکاڑہ محمد راشد ہدایت ہسپتال پہنچے اور زخمی ایس ایچ او کی عیادت کی، جبکہ مفرور کانسٹیبل کی گرفتاری کے لیے شہر بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب پولیس کے اپنے اہلکار ہی غصے، عدم برداشت اور طاقت کے غلط استعمال کا شکار ہوں تو عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟ وردی کا وقار گولیوں کی آواز میں دفن ہوتا جا رہا ہے، عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی دیوار کو مزید کمزور کر رہا ہے۔
قانون کے محافظ ہی آمنے سامنے: اوکاڑہ میں کانسٹیبل کی اپنے ہی ایس ایچ او پر فائرنگ، ڈی پی او کا سخت نوٹس

