لاہور:لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور اس کی کمسن بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر ہلاک ہونے کے کیس میں عدالت نے پانچ ملزمان کو صلح کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ضلع کچہری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس کی عدالت میں مدعی نے آگاہ کیا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید کارروائی نہیں چاہتے، جس پر عدالت نے پانچ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
گرفتار ملزمان میں پراجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج حنزلہ، اور سائٹ انچارج احمد نواز شامل تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس پر ایک ٹویٹ شیئر کی جس میں لکھا تھا کہ ’بھاٹی گیٹ مین ہول واقعہ کے مقدمے کے مدعی نے ملزمان کے ساتھ صلح کر لی ہے۔ متوفیہ کے شوہر (غلام مرتضیٰ) نے 85 لاکھ روپے وصول کیے ہیں، جبکہ والد (ساجد) نے 25 لاکھ روپے وصول کیے ہیں۔ عدالت نے ملزمان کو ضمانت دے دی ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں اپنا مقدمہ ختم کرتا ہوں۔‘
“Respected Madam,
The complainant of the case in Bhati gate manhole incident has effected compromise with the accused. Husband of the deceased (Ghulam Murtaza) has taken 85 lacs, and father (Sajid) has taken 25 lacs.
The court has granted them bail.
For kind info pl.”
I…
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 9, 2026
یہ واقعہ 30 جنوری کو پیش آیا تھا، جب بھاٹی گیٹ کے قریب جاری تعمیراتی کام کے دوران ایک مین ہول کھلا چھوڑ دیا گیا تھا، جس میں خاتون اور اس کی 9 ماہ کی بیٹی گر کر ہلاک ہو گئیں۔ واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور ایئرپورٹ پر ہنگامی اجلاس طلب کیا اور متعلقہ افسران کو معطل کر دیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا۔ تاہم رات گئے خاتون کی لاش ملنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے دوران حراست ان پر تشدد کیا اور دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کا ذمہ دار خود کو تسلیم کریں۔
ان الزامات کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا اور ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔
انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کی انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی گیٹ کو قصور وار قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں افسران نے غلام مرتضیٰ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا اور ان پر تشدد کیا۔

