تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
میانوالی کے تھانہ موچھ سے سامنے آنے والا یہ واقعہ معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے، جہاں ایک مجبور ماں انصاف کی بھیک مانگنے گئی تو آگے محافظ کی وردی میں ایک بھیڑیا بیٹھا اس کا منتظر تھا۔ جب تھانے کے منشی (محرر) زبیر نے سائلہ سے یہ فرمائش کی کہ "میرے سامنے نقاب اتار کر آیا کرو، تم اچھی لگتی ہو،” تو درحقیقت اس نے صرف ایک عورت کی توہین نہیں کی بلکہ اس پورے نظام کا جنازہ نکال دیا جس کے ماتھے پر ‘عوام کا محافظ’ لکھا ہے۔
یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک عورت گلی کے اوباشوں سے ڈر کر جب قانون کی پناہ لینے تھانے پہنچتی ہے، تو وہاں بیٹھا ‘قانون کا رکھوالا’ خود اوباش بن جاتا ہے۔ ان بھیڑیوں کی موجودگی میں اب خواتین کہاں جائیں؟ کیا اب تھانے جانے سے پہلے بھی خواتین کو اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے الگ سے سیکیورٹی چاہیے ہوگی؟
ڈی پی او میانوالی نے اسے معطل تو کر دیا، لیکن کیا صرف معطلی ان درندہ صفت ذہنی مریضوں کا علاج ہے؟ جب تک تھانوں میں بیٹھے ان ‘وردی پوش مجنوں’ کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا، تب تک کوئی بھی بیٹی یا ماں خود کو اس معاشرے میں محفوظ نہیں سمجھ سکے گی۔ انصاف تو دور کی بات، یہاں تو پہلے اپنی عزت کا سودا کرنا پڑتا ہے۔



