Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آرٹی فیشل انٹیلی جنس بے قابو، گوگل جیمنائی نے بھی تین کمپنیوں کے سسٹمز ہیک کر لیے

      مصنوعی ذہانت کا استعمال: امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی

      گیمنگ کی دنیا میں طوفان: ’جی ٹی اے 6‘ کے خصوصی ڈوئل سینس کنٹرولر کی رونمائی، قیمت اور لانچ کی تاریخ سامنے آ گئی

      گوتم اڈانی سے ایشیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز کس نے چھینا؟

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    “نااہل افسر شاہی“ سینئیر کالم نگار توفیق بٹ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: توفیق بٹ
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    بسنت کی گہما گہمی میں لوگ بھول چکے ہیں ایک نوجوان کی بیوی اور اْس کی دس ماہ کی بچی گٹر میں گر کر جان بحق ہو گئی ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا یہ ایک بڑا سانحہ ہے مگر یہ بڑا سانحہ اْن کے لیے ہے جو درد دل رکھتے ہیں۔ ہمارے حکمران اس طرح کے سانحات میں جس درد دل کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ محض دکھاوے کا ہوتا ہے، اْن کے نزدیک جان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی، اْنہیں صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے، معمولی سے نزلے زکام پر وہ علاج کے لیے بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں، مگر اْس وقت نہیں ہوتے جب وہ حکمران ہوتے ہیں، اْس وقت اْنہیں کوئی بیماری چھو کر بھی نہیں گزرتی۔ وہ صرف اْس وقت ’’جان لیوا‘‘ بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جب اپنی کچھ کرتوتوں کے باعث وہ جیلوں میں ہوتے ہیں۔ میرا یہ سوچ سوچ کر دل ڈوب رہا ہے اپنی بیوی اور دس ماہ کی بچی کھونے کے بعد اْس نوجوان کی کیا حالت ہو گی جسے محض اس لیے چھتر مارے گئے اْس نے اپنی بچی اور بیوی کے گٹر میں گرنے کی اطلاع متعلقہ اداروں کو کیوں دی؟ میں بارہا عرض کرتا ہوں پاکستان اب وہ ملک بن چکا ہے جہاں قتل کرنا جْرم نہیں قتل ہونا جرم ہے۔ مجھے حیرت ہے ابھی تک گٹر میں گر کر جان بحق ہونے والی خاتون کو قبر سے نکال کر اْس کا ٹرائل کیوں نہیں شروع کیا گیا کہ تم اندھی ہو گئی تھی؟ تمہیں گٹر دکھائی نہیں دیا تھا؟ تمہیں معلوم نہیں تھا پاکستان ننگے گٹروں سے بھرا پڑا ہے؟ جب اْسے قبر سے نکال کر کوئی سزا دینا فوری طور پر ممکن دکھائی نہ دیا اْس کے شوہر کو پکڑ کر تھانے لے گئے۔ لاہور کا یہ تھانہ اْس ڈی آئی جی کے ماتحت ہے جو دعویدار ہے کہ وہ کسی کی سفارش پر ایس ایچ او نہیں لگاتا۔ اگر اْس کے ’’میرٹ‘‘ پر لگائے ہوئے ایک ایس ایچ او کی یہ حالت ہے اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے میرٹ پر لگائے ہوئے ایک ایس پی کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک بے گناہ بلکہ مظلوم شہری کی چھترول کر دیتے ہیں پھر اْس پولیس کا اللہ حافظ ہے جس کے اکثر اعلیٰ افسران یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے وہ میرٹ پر تقرریاں کرتے ہیں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس ملازمین و افسروں کو اندھا دْھند ترقیاں دینے کی جو تاریخ رقم کی اْس کی لاج رکھتے ہوئے بدبخت پولیس کو اپنا قبلہ درست کرنا چاہیے تھا۔ افسوس اْس کا قبلہ مزید بگڑ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ایک لمبا چوڑا نمائشی اجلاس اس سانحے پر کیا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا اس سانحے کے اصل ذمہ داران کون کون ہیں؟ ہمیں وزیراعلیٰ نے بتایا اس سانحے کے اصل ذمہ داران کون کون ہیں؟ اْن کی باتوں سے تو محسوس ہو رہا تھا چیف سیکرٹری پنجاب سے لے کر ڈی سی لاہور تک سب اس کے ذمہ داران ہیں، ایک اسسٹنٹ کمشنر کو اْنہوں نے براہ راست ذمہ دار قرار دیا، بار بار اْسے غفلت کا مرتکب قرار دیا۔ ہمارا خیال تھا ایسی مجرمانہ غفلت پر اْس اے سی کا تبادلہ بطور سزا بلوچستان یا اگر وہ پی ایم ایس افسر ہے تو پنجاب کے کسی دور دراز ضلع میں کر دیا جائے گا، علاوہ ازیں یہ حکم جاری کیا جائے گا آئندہ پوری سروس میں اْسے فیلڈ میں کسی کمائو عہدے پر تعینات نہ کیا جائے۔ پر اگلے ہی روز اْسے لاہور میں اے سی ہیڈ کوارٹر لگا دیا گیا جس سے ثابت ہو گیا نااہل اور نکمے افسروں و حکمرانوں کا وہ کس قدر لاڈلا ہے۔ جان بحق ہونے والی خاتون اور اْس کی دس ماہ کی بچی کے مظلوم شوہر پر جب تھانے میں تشدد کیا جا رہا تھا ایس پی سٹی لاہور بھی وہاں موجود تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پولیس کی اپنی انکوائری میں بھی اْسے قصوروار قرار دیا گیا، پتہ چلا ہے وہ ابھی تک اپنے عہدے پر کام کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے بطور سزا اس کا تبادلہ لاہور میں ہی کسی اور اچھے عہدے پر کر دیا جائے گا۔ پھر کچھ دنوں بعد اْسے دوبارہ فیلڈ میں کسی کمائو عہدے پر لگا کر یہ ثابت کر دیا جائے گا نااہل افسران کبھی اپنے جرم غفلت یا کوتاہی کے مطابق سزا نہیں پاتے بلکہ انعام پاتے ہیں۔ سو اپنے محترم آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے ہم گزارش کرتے ہیں اس نکمے ایس پی سٹی لاہور کو فوری طور پولیس میڈل کے لیے نامزد کر دیں۔ اس سانحے پر وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے دکھاوے کے ایکشن اْن کی ایک طویل نمائشی میٹنگ میں ہم نے بہت سْن لیے، اصل بات عمل درآمد کی ہے جو مکمل طور پر اس لیے نہیں ہوا کہ پاکستان کے ہر شعبے میں مجیں مجوں کی بہنیں ہوتی ہیں، بیوروکریسی میں تو بڑے بڑے سانڈ ہیں، یا پھر یہ کووں کی وہ کلاس ہے جس میں کسی ایک کوے کو کچھ ہو جائے سیکڑوں کوے کاں کاں کرتے اْس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف عوام میں اگر واقعی اپنی ساکھ قائم کرنا چاہتی ہیں وہ حکم جاری کریں جس ایس ایچ او نے گٹر میں گر کر جان بحق ہونے والی خاتون کے شوہر اور اْس کی دس ماہ کی بچی کے مظلوم باپ پر تشدد کیا اْس ایس ایچ او کو گرفتار کر کے اْس مظلوم شخص کے پاس لایا جائے اور اْس کے ہاتھ میں چھتر دے کر اْس سے کہا جائے اس گھٹیا ایس ایچ او پر تم بھی اْسی طرح تشدد کرو جس طرح اْس نے تم پر کیا ہے، بلکہ دو چار چھتر اْس ایس پی کو بھی مارو جس کے سامنے یا جس کے حکم پر تشدد ہوا۔ جب تک اس طرح کے اقدامات نہیں کئے جائیں گے کم از کم وہ گھٹیا اور ظالم ایس ایچ اوز ہرگز سدھرنے والے نہیں ہیں جن کے بارے میں اْن کے اعلیٰ افسران یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ وہ اْنہیں میرٹ پر تعینات کرتے ہیں، یا پھر ہو سکتا ہے لاہور پولیس کے اعلیٰ افسروں نے اب میرٹ ہی یہ بنا لیا ہو بے گناہ اور مظلوم لوگوں کو رج کے تنگ کرنا ہے اور تھانوں کے روایتی منتھلی سسٹم کو بھی ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔ سپیشل برانچ پنجاب میں آج کل بڑے محنتی افسر رائو عبدالکریم بطور ایڈیشنل آئی جی تعینات ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہیے کسی روز اْنہیں بلا کر ہدایت جاری کریں کہ وہ پنجاب کے تھانوں کے روایتی منتھلی سسٹم کے بارے میں ایک مفصل خفیہ رپورٹ تیار کر کے اْنہیں پیش کریں۔ یہ رپورٹ اگر پبلک کر دی گئی بڑے بڑے سیاست دان اور حکمران شاید اس خواہش کا اظہار کریں اْنہیں تھانوں میں بطور ایس ایچ او تعینات کر دیا جائے۔ ایک گزارش لاہور کے صرف عہدے کے لحاظ سے ہی ’’اعلیٰ‘‘ پولیس افسر سے بھی کرنی ہے کہ پْرتگالی معاملات سے تھوڑی توجہ ہٹا کر لاہور کے اْن معاملات پر بھی دے جو دن بہ دن بگڑتے جا رہے ہیں، ایک لمبا کش لگا کے۔۔۔۔

    Related Posts

    سینئر اسٹیج اداکار آصف اقبال دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

    نیلم کماری کو وفاقی کابینہ میں شامل یا وزیراعظم کی مشیر مقرر کیا جائے، اہلِ عمرکوٹ کا مطالبہ

    سرگودھا: اسپورٹس اسٹاف کے وفد کی نئے وائس چانسلر ڈاکٹر تصور حیات سے ملاقات، گلدستہ پیش

    مقبول خبریں

    سرینگر – جموں شاہراہ پر بی ایس ایف کی گاڑی کو حادثہ، 5 اہلکار زخمی

    وزن کی تبدیلی پر بلاوجہ تنقید: کترینہ کیف اور دیگر بھارتی اداکاروں پر ٹرولنگ کے تیر

    کھانستے یا ہنستے وقت پیشاب کے قطرے نکلنا: ‘اسٹریس انکانٹیننس’ کی علامات اور علاج

    بیجنگ میں ڈرون رکھنے پر مکمل پابندی کا فیصلہ: نومبر کی ڈیڈ لائن سے قبل شہریوں کی ڈرونز بیچنے کی دوڑ

    سینئر اسٹیج اداکار آصف اقبال دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

    بلاگ

    1122: سہولت جو موجود ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کے برابر ہے

    پروفیسر ملک احمد شیر کھارا — علم و تدریس کا روشن استعارہ

    ڈرون: آسمان کی وہ آنکھ جس نے جنگ اور زندگی بدل دی

    دیہاتی زندگی میں چوپال کی اہمیت

    خانۂ خدا بھی محفوظ نہیں!

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.