تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
تصویر میں دو مسلح افراد کو پولیس کی بکتر بند گاڑی کے عقب میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں نے روایتی اجرک اوڑھ رکھی ہے، سر پر سندھی ٹوپی ہے اور انداز ایسا ہے جیسے کسی خوف، ندامت یا انجام کا نہیں بلکہ مکمل اطمینان اور فتح مندی کا ہو۔ ایک ڈاکو کے چہرے پر نمایاں مسکراہٹ محض ایک تاثر نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف پر ایک گہرا اور خاموش طنز بن کر سامنے آتی ہے۔
یہ وہی کچے کے بدنام ڈاکو ہیں جن پر قتل، اغوا برائے تاوان، پولیس مقابلوں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔ مگر گرفتاری یا سرنڈر کے مناظر میں مجرموں کی بجائے مہمانوں جیسا سلوک نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ہتھکڑیوں کی جگہ اجرک، سختی کی جگہ سہولت اور خوف کی جگہ اعتماد یہ سب ایک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جو عوامی سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ سرنڈر کسی بڑے آپریشن، طویل محاصرے یا دباؤ کے نتیجے میں نہیں ہوا بلکہ رضاکارانہ واپسی کے نام پر طے پایا۔ اس کے فوراً بعد طبی سہولتیں، نرم رویہ اور خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔ یہی طرزِ عمل برسوں سے کچے کے علاقوں میں جرائم کے تسلسل کو تقویت دیتا آ رہا ہے، جہاں طاقتور ملزمان چند رسمی کارروائیوں کے بعد دوبارہ آزاد فضا میں سانس لیتے نظر آتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں اکثر مدعیان پر دباؤ، صلح یا خاموشی ایک معمول بن چکا ہے۔ نتیجتاً سنگین جرائم فائلوں میں دب جاتے ہیں، گواہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ملزمان باعزت انداز میں رہا ہو جاتے ہیں۔ اسی حقیقت کے باعث یہ سرنڈر خوف یا ندامت نہیں بلکہ مکمل حساب کتاب کے تحت کیا گیا قدم محسوس ہوتا ہے۔
عوامی ردِعمل شدید ہے۔ عام شہری اسے دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں، جہاں معمولی الزام میں گرفتار نوجوان برسوں مقدمات بھگتتے رہتے ہیں جبکہ مسلح مجرم چند دن کی کارروائی کے بعد سہولتوں کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔
تصویر میں ابھرتی ہوئی مسکراہٹ دراصل اسی اعتماد کی علامت ہے کہ یہاں انجام سخت نہیں، صرف وقتی رکاوٹ ہے۔ یہ منظر سرنڈر سے زیادہ ایک ایسے نظام پر بھروسے کی تصویر ہے جہاں جرم وقتی تکلیف تو بن سکتا ہے، مستقل سزا نہیں۔
اب ریاست کے لیے یہ لمحہ محض گرفتاری کا نہیں بلکہ ساکھ کا امتحان ہے۔ آیا یہ مسکراہٹ واقعی قانون کی گرفت میں آ کر مٹے گی یا حسبِ روایت چند فائلوں کے بند ہوتے ہی کچے کی سرزمین ایک بار پھر ان کے قدموں کی چاپ سنے گی۔


