Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ”سستا بیچو ،مہنگا خریدو“سولر صارفین پر بجلی گرا دی گئی، نیٹ بلنگ کا نیا قانون نافذ

      ایلون مسک کا بڑا اعلان: مریخ سے پہلے ’چاند‘ پر انسانی بستی بسانے کی تیاری، 10 سال کا ہدف مقرر

      گوگل کا سستا اور طاقتور ’پکسل 10 اے‘ وقت سے پہلے لانچ، فیچرز اور قیمت سامنے آگئی

      کراچی کی شاہراہ پر نصب ڈیجیٹل اسکرینز ہیک: سرعام غیر اخلاقی مواد نشر، انتظامیہ کی فوری کارروائی

      ایکس اور ’گروک‘ پر قانون کا شکنجہ سخت: فرانس میں ایلون مسک کے دفاتر پر چھاپہ، برطانیہ میں ڈیپ فیکس پر تحقیقات شروع

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      ماں تو ماں ہے ۔۔۔ ونٹر اولمپکس گولڈ میڈل جیتنے پر کم سن بیٹے نے دل جیت لئے

      سفیر بھی بسنت کے جادو کے سامنے بے بس،برطانوی ہائی کمشنر نے بھی گڈی اڑائی

      ”تھڑے والوں ” کی الگ اور ایلیٹ کلاس کی بسنت الگ

      دل ہونا چاہیدا جوان عمراں وچ کی رکھیا۔۔۔۔

      نواز شریف کی دوستوں کے ہمراہ بسنت

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سرنڈر یا سمجھوتہ؟ مسکراہٹ نے کئی سوال چھوڑ دیے،،،

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    تصویر میں دو مسلح افراد کو پولیس کی بکتر بند گاڑی کے عقب میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں نے روایتی اجرک اوڑھ رکھی ہے، سر پر سندھی ٹوپی ہے اور انداز ایسا ہے جیسے کسی خوف، ندامت یا انجام کا نہیں بلکہ مکمل اطمینان اور فتح مندی کا ہو۔ ایک ڈاکو کے چہرے پر نمایاں مسکراہٹ محض ایک تاثر نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف پر ایک گہرا اور خاموش طنز بن کر سامنے آتی ہے۔
    یہ وہی کچے کے بدنام ڈاکو ہیں جن پر قتل، اغوا برائے تاوان، پولیس مقابلوں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔ مگر گرفتاری یا سرنڈر کے مناظر میں مجرموں کی بجائے مہمانوں جیسا سلوک نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ہتھکڑیوں کی جگہ اجرک، سختی کی جگہ سہولت اور خوف کی جگہ اعتماد یہ سب ایک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیں جو عوامی سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
    ذرائع کے مطابق یہ سرنڈر کسی بڑے آپریشن، طویل محاصرے یا دباؤ کے نتیجے میں نہیں ہوا بلکہ رضاکارانہ واپسی کے نام پر طے پایا۔ اس کے فوراً بعد طبی سہولتیں، نرم رویہ اور خصوصی پروٹوکول دیا گیا۔ یہی طرزِ عمل برسوں سے کچے کے علاقوں میں جرائم کے تسلسل کو تقویت دیتا آ رہا ہے، جہاں طاقتور ملزمان چند رسمی کارروائیوں کے بعد دوبارہ آزاد فضا میں سانس لیتے نظر آتے ہیں۔
    قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں اکثر مدعیان پر دباؤ، صلح یا خاموشی ایک معمول بن چکا ہے۔ نتیجتاً سنگین جرائم فائلوں میں دب جاتے ہیں، گواہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ملزمان باعزت انداز میں رہا ہو جاتے ہیں۔ اسی حقیقت کے باعث یہ سرنڈر خوف یا ندامت نہیں بلکہ مکمل حساب کتاب کے تحت کیا گیا قدم محسوس ہوتا ہے۔
    عوامی ردِعمل شدید ہے۔ عام شہری اسے دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں، جہاں معمولی الزام میں گرفتار نوجوان برسوں مقدمات بھگتتے رہتے ہیں جبکہ مسلح مجرم چند دن کی کارروائی کے بعد سہولتوں کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔
    تصویر میں ابھرتی ہوئی مسکراہٹ دراصل اسی اعتماد کی علامت ہے کہ یہاں انجام سخت نہیں، صرف وقتی رکاوٹ ہے۔ یہ منظر سرنڈر سے زیادہ ایک ایسے نظام پر بھروسے کی تصویر ہے جہاں جرم وقتی تکلیف تو بن سکتا ہے، مستقل سزا نہیں۔
    اب ریاست کے لیے یہ لمحہ محض گرفتاری کا نہیں بلکہ ساکھ کا امتحان ہے۔ آیا یہ مسکراہٹ واقعی قانون کی گرفت میں آ کر مٹے گی یا حسبِ روایت چند فائلوں کے بند ہوتے ہی کچے کی سرزمین ایک بار پھر ان کے قدموں کی چاپ سنے گی۔

    Related Posts

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی معاونت کیلئے 10 ارب دینے کا اعلان

    تاریخی فیصلہ: ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی ذمہ داریاں فوج سے پولیس اور سول انتظامیہ کو منتقل کرنے کا اعلان

    فرینڈ آف دی کورٹ ایڈووکیٹ سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات

    مقبول خبریں

    ایپسٹین اسکینڈل: ایلون مسک اور مارک زکربرگ کی ‘خفیہ ملاقات’ کا انکشاف، نئی تصویر نے تہلکہ مچا دیا

    کرکٹ کے سب سے بڑے ٹکراؤ کی راہ ہموار: پاکستان کا سری لنکا میں بھارت کے خلاف کھیلنے کا اعلان

    علاج کرانے چلے تھے، ہڈیاں تڑوا بیٹھے! بھکر میں سرکاری ایمبولینس سے مریض اسٹریچر سمیت سڑک پر جا گرا،

    بھاٹی گیٹ کیس، صلح ہونے پر عدالت نے ملزمان کو رہا کردیا

    لاہوریوں کو بسنت منانے سے کون روک سکا ہے، میں نے خود پتنگ اڑائی،علیمہ خان

    بلاگ

    ”جہاں انصاف سے پہلے نقاب اتارنے کی فرمائش ہوتی ہے“

    سرنڈر یا سمجھوتہ؟ مسکراہٹ نے کئی سوال چھوڑ دیے،،،

    “نااہل افسر شاہی“ سینئیر کالم نگار توفیق بٹ

    رشوت خور پولیس، طویل انکوائریاں اور عام شہری کی فوری گرفتاری،، احتساب کا دوہرا معیار بے نقاب

    ایک ماں، ایک معصوم بچی، اور سچ کی لاش: KPI فیک رپورٹس نے بھاٹی گیٹ سانحہ کیسے جنم دیا؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.