Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ایکس اور ’گروک‘ پر قانون کا شکنجہ سخت: فرانس میں ایلون مسک کے دفاتر پر چھاپہ، برطانیہ میں ڈیپ فیکس پر تحقیقات شروع

      ٹیکنالوجی کی دنیا کا بڑا سودا، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے آرٹیفیشل انٹیلجنس کمپی XAI کو خرید لیا

      آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے قوانین ہوا میں اڑا دیے؟ اسرائیلی فوج کی مدد پر گوگل کے خلاف سنگین انکشافات

      سوشل میڈیا کا مفت استعمال ختم؟ میٹا کا فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے لیے ’پریمیم سبسکرپشن‘ کا اعلان

      "پنجاب بنا ڈیجیٹل!گوگل ٹیک ویلی’ کا قیام؛مریم نواز نے وزرا کے ہمراہ اے آئی ٹریننگ سیشن کی خود قیادت کی”

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      تہران کے پر ہجوم شاپنگ کمپلیکس میں خوفناک آتشزدگی،دھوئیں کے بادل چھا گئے

      نئے آئی جی پنجاب کے بعد بھی سی سی ڈی کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، سہیل ظفر چٹھہ

      13 سال سے صوبہ پسماندہ کیوں؟ طالبہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سخت سوالات

      میڈیا کی محتاجی ختم، ڈی جی پی آر کی او بی وین کا افتتاح،وزیراعلیٰ مریم نواز نے معائنہ کیا

      خوشاب : عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی اپنے آبائی گاؤں آمد؛ رقت آمیز مناظر

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ایک ماں، ایک معصوم بچی، اور سچ کی لاش: KPI فیک رپورٹس نے بھاٹی گیٹ سانحہ کیسے جنم دیا؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

    سانحہ بھاٹی گیٹ پورے انتظامی اور پولیس نظام کا آئینہ ہے جو دعووں، اعداد و شمار اور کارکردگی اشاریوں میں تو نہایت فعال دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقیقت میں انسانی جانوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ایک خاتون اور اس کی نو ماہ کی بچی کا سیوریج لائن میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اس تلخ حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ اس نظام کی ترجیحات بگڑ چکی ہیں اور انسانی جان ثانوی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ صوبائی حکومت، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، نے گورننس بہتر بنانے اور اپنی انتظامی ساکھ مستحکم کرنے کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات متعارف کروائے۔ انہی میں انتظامی افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے 23 نکاتی KPI پرفارمنس انڈکس بھی شامل ہے۔ اس نظام کے تحت لائیو مانیٹرنگ، کھلے مین ہولز، کتے کے کاٹنے کے واقعات، اسکولوں کے سامنے زیبرا کراسنگ، اسٹریٹ لائٹس، تجاوزات، وال چاکنگ اور دیگر شہری مسائل کا ماہانہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیے جاتے ہیں اور کوتاہی پر نمبر کاٹے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سخت اور مؤثر احتسابی نظام معلوم ہوتا ہے، مگر عملی طور پر یہی نظام دباؤ، غلط رپورٹنگ اور سچ کو دبانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
    سانحہ بھاٹی گیٹ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ نمبر کٹنے کے خوف نے انتظامی افسران کو اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ اصل مسئلے کے حل کے بجائے اسے دبانا زیادہ ضروری سمجھا گیا۔ ماتحت انتظامی افسران اور پولیس پر دباؤ ڈالا گیا کہ معاملہ “سیٹل” کیا جائے۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک غمزدہ شوہر، جو نہ مجرم تھا نہ ملزم، تھانے میں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنا۔ اس سے سفید کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے، اور جب اس نے انکار یا مزاحمت کی تو اسے برہنہ کر کے چھتر مارے گئے۔ اس کا واحد قصور یہ تھا کہ اگر حقیقت سامنے آ جاتی تو کسی افسر کا KPI متاثر ہو سکتا تھا۔
    کیوں اسواقعہ تردید کی جاتی رہی؟ کیوں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ خاتون اور اس کی بچی کے سیوریج میں گرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر میتیں برآمد نہ ہوتیں تو شاید الزام بھی اسی شوہر پر ڈال دیا جاتا۔ جیسے ہی لاشیں ملیں، بیانیہ بدل گیا، کارروائیاں ہوئیں، ایک ایس ایچ او معطل ہوا، دو افسران کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے، مگر اصل فیصلہ ساز ایک بار پھر دائرۂ احتساب سے باہر رہے۔
    یہ سانحہ اس تلخ سچ کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ جدید اور ڈیجیٹل دور کے تمام دعوؤں کے باوجود تھانوں کے اندر روایتی تشدد آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ عام شہری ہی نہیں، خود پولیس اہلکار بھی اسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، مگر بولتے نہیں کیونکہ انہیں اسی نظام میں دوبارہ لوٹنا ہوتا ہے۔ جب کوئی معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کر لے تو وقتی معطلیاں اور علامتی کارروائیاں ضرور ہوتی ہیں، مگر مجموعی کلچر جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ آخرکار “سب اچھا” کی رپورٹ آگے بڑھا دی جاتی ہے اور فائل بند کر دی جاتی ہے۔ جیسا کہ چونیاں میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر صرف کاغذی کارروائی اور اعلیٰ حکام کو دکھانے کے لیے گٹر پر ڈھکن رکھ کر تصویر بناتے ہیں اور پھر اسے واپس اٹھا کر ساتھ لے جاتے ہیں۔
    سانحہ بھاٹی گیٹ کے اگلے ہی روز لاہور میں علی بابا بیکرز کے قریب گامے شاہ کے علاقے میں ایک نوجوان، حسن خان، مین ہول میں گر کر زخمی ہوا۔ وہ خاموش رہا شاید اس خوف سے کہ کہیں اس کے حصے میں بھی وہی سلوک نہ آ جائے جو سچ بولنے والوں کا مقدر بن جاتا ہے۔ یہی خاموشی اس نظام کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے اور سب سے بڑی ناکامی بھی۔
    اگر واقعی اصلاح مقصود ہے، اگر واقعی انسانی جان کو ترجیح دینا مقصود ہے، تو کاغذی KPI اور فائلوں میں درج کارکردگی اشاریوں کے بجائے زمینی حقائق کا آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار سروے ناگزیر ہے۔ چونیاں میں میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں کی وائرل ویڈیو جس میں وہ محض تصویری ثبوت کے لیے گٹر پر ڈھکن رکھ کر تصویر بناتے اور پھر اسے اٹھا کر ساتھ لے جاتے ہیں اس پورے نظام کی علامت بن چکی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو خود یہ سروے کروانا چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ صوبے بھر میں کتنے مین ہول واقعی بند ہیں، کتے تلف کرنے کے دعوؤں کے باوجود کاٹنے کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں، اور اسکولوں کے باہر زیبرا کراسنگ اور اسٹریٹ لائٹس کاغذوں میں موجود ہیں یا زمین پر بھی نظر آتی ہیں۔ سانحہ بھاٹی گیٹ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب نظام میں انسانی جان سے زیادہ نمبر، رپورٹ اور ساکھ اہم ہو جائیں تو ایسے سانحات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ جب تک “سب اچھا” کی رپورٹ دینے کا کلچر ختم نہیں ہوتا اور سچ سامنے لانے والوں کو تحفظ نہیں ملتا، تب تک ہر نیا اصلاحی نظام ایک نئے سانحے کا پیش خیمہ بنتا رہے گا۔

    Related Posts

    پنجاب دھی رانی پروگرام: مسیحی اور قیدی خاندانوں سمیت 111 بیٹیوں کی شادیاں، اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے دولاکھ کا تحفہ

    رشوت خور پولیس، طویل انکوائریاں اور عام شہری کی فوری گرفتاری،، احتساب کا دوہرا معیار بے نقاب

    سابق ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ تعینات

    مقبول خبریں

    ٹیکنالوجی کی دنیا کا بڑا سودا، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے آرٹیفیشل انٹیلجنس کمپی XAI کو خرید لیا

    عمران خان کا کوئی آپریشن نہیں ہوا، صرف ٹیکہ لگا ہے، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ

    بسنت 2026، دو دنوں میں 34 کروڑ کی ڈور، گڈے ،پتنگیں فروخت،

    موٹر سائیکل پر حفاظتی راڈ نہ لگوانے پر لاہور گلبرگ میں پہلی ایف آئی آر

    سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات،رفعت مختار کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنیکا حکم

    بلاگ

    رشوت خور پولیس، طویل انکوائریاں اور عام شہری کی فوری گرفتاری،، احتساب کا دوہرا معیار بے نقاب

    ایک ماں، ایک معصوم بچی، اور سچ کی لاش: KPI فیک رپورٹس نے بھاٹی گیٹ سانحہ کیسے جنم دیا؟

    بھاٹی گیٹ سانحہ: تجاوزات،،جعلی انسدادِ تجاوزات، اصلی کمائی فوٹو سیشن اور کروڑوں کی گیم، کالم نگار ملک محمد سلمان کی چشم کشا تحریر

    دکان کے باہر اونٹ باندھنے پر قصاب گرفتار، شہر میں بحث چھڑ گئی

    سانحہ بھاٹی گیٹ تشدد کی بازگشت پر ایکشن ایس ایچ او معطل،اصل ذمہ دار کہاں؟ ڈی آئی جی کا تحقیقات کا حکم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.