پیرس/لندن : سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ اور ایلون مسک کی اے آئی کمپنی ‘ایکس اے آئی’ (xAI) کو یورپ میں سنگین قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
فرانسیسی حکام نے بچوں کے جنسی استحصال اور ڈیپ فیکس کے پھیلاؤ کے الزامات پر کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مارا ہے، جبکہ برطانیہ نے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز کے مطابق، منگل کے روز پیرس میں ‘ایکس’ کے دفاتر پر اچانک چھاپہ مارا گیا۔ یہ کارروائی
بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد (CSAM) کی تشہیر۔ اورمصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی نازیبا تصاویر (Deepfakes) کےپھیلاؤ کے الزامات کے تحت کی جارہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس چھاپے کا مقصد ڈیجیٹل ثبوت اکٹھے کرنا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا پلیٹ فارم جان بوجھ کر یا غفلت کی بنا پر غیر قانونی مواد کی گردش کا ذریعہ بن رہا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے ڈیٹا ریگولیٹر، انفارمیشن کمشنر آفس (ICO) نے ‘ایکس’ اور ‘ایکس اے آئی’ کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کا مرکز اے آئی چیٹ بوٹ ‘گروک’ ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے جنسی ڈیپ فیکس (Sexual Deepfakes) تخلیق کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
انفارمیشن کمشنر کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایسے نازیبا مواد کی تخلیق اور اس کی گردش برطانیہ کے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا بھی خطرہ ہے۔”
ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی تشویش
ماہرین کے مطابق، ایلون مسک کی جانب سے ‘گروک’ کو "غیر محدود” (Unrestricted) اے آئی کے طور پر متعارف کروانا اب کمپنی کے لیے وبالِ جان بنتا جا رہا ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ کے سخت ڈیٹا قوانین کے تحت، کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کو ذاتی معلومات اور انسانی وقار کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں، تو ‘ایکس’ پر نہ صرف بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں بلکہ یورپ کے بعض حصوں میں اس کی سروسز پر پابندی کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
ایکس اور ’گروک‘ پر قانون کا شکنجہ سخت: فرانس میں ایلون مسک کے دفاتر پر چھاپہ، برطانیہ میں ڈیپ فیکس پر تحقیقات شروع

