اسلام آباد :اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر وی آئی پی موومنٹ کے دوران پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری امور میں مداخلت سے متعلق مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
یہ مقدمہ 2024 میں اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے اسلام آباد ایکسپریس وے پر وی آئی پی موومنٹ کے دوران لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹایا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی تھی۔
بدھ کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایک دوسرے مقدمے میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی وکیل زینب جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی اپنے مؤکلین سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور نہ ہی مقدمے میں ہونے والی تفتیش کی کاپیاں ملزمان کو دی گئی ہیں۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ دو گھنٹے تک اڈیالہ جیل کے باہر انتظار کرتی رہیں لیکن ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس پر عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا۔
زینب جنجوعہ نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ جب تک انھیں مقدمے کے چالان کی نقول فراہم نہیں کی جاتیں، فردِ جرم کیسے عائد کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ملزمان اور نہ ہی ان کی وکیل کو مقدمے کی کاپیاں دی گئی ہیں۔
ویڈیو لنک پر پیشی کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ انھیں ابھی تک مقدمے کے چالان کی نقول نہیں ملیں اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
تاہم عدالت نے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی اور قرار دیا کہ وہ اس حکم کو متعلقہ فورم پر چیلنج کر سکتے ہیں۔
فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت نو اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
بیئرئر ہٹانے کا مقدمہ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد، ملزمان کا صحتِ جرم سے انکار

