-
پولیس کا بجٹ 190 ارب کر دیا؛ ادائیگی کے باوجود HIT اور NRTC کی جانب سے اے پی سیز اور جیمرز میں تاخیر پر تشویش
-
پشاور (انورزیب خان)
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا سیاسی حکم کے سامنے مزاحمت کرے اور عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے کسی پولیس افسر کو سیاسی انتقام یا غلط ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی غیر قانونی حکم نہیں دیا، لہٰذا کسی اور ادارے یا شخص کو بھی پولیس کو غلط احکامات دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 سال سے مسلسل دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ 2018 سے 2022 کے دورِ حکومت میں صوبے میں امن قائم ہوا، تاہم 2022 کے "رجیم چینج آپریشن” اور ریاست کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں بدامنی کا دور دوبارہ شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی قربانیوں کی بدولت ہی ملک کے دیگر حصے بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی محفوظ ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس فورس کی مالی و لاجسٹک ضروریات پوری کرنے کے لیے پولیس کا سالانہ بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا ہے، جبکہ شہداء پیکیج میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) اور این آر ٹی سی (NRTC) کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ سال تمام تر ادائیگیاں مکمل کر دی تھیں، اس کے باوجود پولیس کے لیے زرہ بوش گاڑیاں (APCs)، جیمرز اور اینٹی ڈرون سسٹمز تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے لیے جدید اے پی سیز تیار کر کے دے دی گئیں، مگر دہشت گردی کی فرنٹ لائن پر لڑنے والی خیبرپختونخوا پولیس کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے HIT اور NRTC سے تمام ضروری آلات کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی مسلح جدوجہد کے بجائے آئین کے تحت پُرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ آئین کی رو سے ملنے والے "رائٹ ٹو اسمبلی” کا دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے جدید پولیس ایکٹ منظور کر لیا ہے اور اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو صوبائی حکومت اس کے خلاف قانونی و آئینی اقدامات کرے گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کے پی پولیس کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، غیر قانونی احکامات کی مزاحمت کی جائے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا


