واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ امریکی معیشت اور عسکری طاقت کے لیے ایک انتہائی مہنگا سودا ثابت ہو رہی ہے۔ کانگریس کے بجٹ آفس (CBO) کی جانب سے قانون سازوں کو پیش کی جانے والی ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق، اس تنازع نے اب تک پینٹاگون کے 38 ارب ڈالر نگل لیے ہیں اور اخراجات کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس اعداد و شمار میں جنگ کے دوران ضائع ہونے والا گولہ بارود، عسکری سازوسامان کی تبدیلی، اور طیاروں کے فِیول و پرواز کے اخراجات شامل ہیں۔ رواں سال 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ پر آئندہ مہینوں میں ماہانہ 2 سے 3 ارب ڈالر مزید خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے—جو کہ اس تنازع کو صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس ایک انتہائی مہنگا بحران بنا رہا ہے جسے وہ محض "چھوٹی موٹی جنگ” (small potatoes) قرار دیتے آئے ہیں۔
کانگریس کے بجٹ آفس کے ڈائریکٹر فلپ سویجل (Phillip Swagel) کی طرف سے بھیجے گئے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا تو پینٹاگون کے اخراجات انتہائی تیزی سے بڑھیں گے۔ اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ امریکی فوج کے میزائل ڈیفنس انٹرسیپٹرز کے ذخائر بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں، جس سے امریکا آنے والے برسوں میں کسی دوسری ممکنہ جنگ کے لیے دفاعی طور پر کمزور ہو گیا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 38 ارب ڈالر کے اس سرکاری بل میں عام امریکی شہریوں کی جیبوں پر پڑنے والا مہنگائی کا وہ پہاڑ شامل نہیں ہے جو اس جنگ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ براؤن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے امریکی صارفین اب تک 107 ارب ڈالر سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کر چکے ہیں۔
جب امریکا اور اسرائیل نے یہ جنگ شروع کی تھی تو صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔ تاہم، چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اس دلدل سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ اس جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اپنی سیاسی پوزیشن کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ "میں اسے ایک فوجی تنازع کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے چھوٹی موٹی بات ہے، ویتنام کی طرح اس میں ہزاروں لوگ نہیں مرے۔” تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں؛ جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کو رواں سال موسمِ خزاں کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں شکست کا حقیقی خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔
امریکا ایران جنگ کی لاگت 38 ارب ڈالر سے تجاوز ، مہنگائی نے عام امریکیوں کی کمر توڑ دی، کانگریس رپورٹ

