تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کے بعد بظاہر صورتحال میں تبدیلی آنا شروع ہوئی ہے۔ سرکاری افسران اور اہلکار مبینہ رشوت تو درکنار، تحائف قبول کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن کرپشن کے خاتمے کی جنگ صرف رشوت لینے والے ہاتھ روکنے سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اصل چیلنج ان پورے راستوں کو بند کرنا ہے جن کے ذریعے ناجائز مفادات، اثرورسوخ، سفارش اور جرائم کی سہولت کاری کا نظام چلتا ہے۔ایک بڑا مسئلہ وہ عناصر بھی ہیں جو بااثر افسران کے ساتھ تصاویر بنوا کر عام شہریوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کی ہر جگہ رسائی ہے۔ پھر یہی تصاویر اور تعلقات استعمال کرکے سادہ لوح شہریوں کو متاثر کیا جاتا ہے۔ حکومت اگر واقعی کرپشن اور فراڈ کے خلاف سنجیدہ ہے تو ایسے نام نہاد ’’بااثر‘‘ افراد کی بھی نشاندہی ضروری ہے جو سرکاری افسران سے قربت کو اپنے کاروبار کا ذریعہ بناتے ہیں۔کرپشن صرف میز کے نیچے سے رقم لینے کا نام نہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کی سہولت کاری، سرپرستی، خاموش معاونت اور غیرقانونی سرگرمیوں سے چشم پوشی بھی اسی بڑے مسئلے کا حصہ ہیں۔ مختلف علاقوں میں گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلز، موٹلز، کیفے، فارم ہاؤسز اور بلیرڈ کلبز منشیات، قمار بازی، جسم فروشی کے اڈے ہاوسنگ سوسائٹیز کے فراڈ اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگر کسی ذمہ دار اہلکار کو کسی جرم کا علم ہو اور وہ کارروائی کے بجائے خاموش رہے تو اس خاموشی کی بھی غیرجانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ ایک اعلیٰ افسر نے ایک ملاقات میں انتہائی اہم سوال اٹھایا اگر کوئی افسر سرکاری ملازمت میں داخل ہوتے وقت محدود تنخواہ لے رہا ہے، بڑے نجی اسکولوں کی فیسیں، بچوں کا پک اینڈ ڈراپ، یونیفارم، گھر کے اخراجات اور دیگر ضروریات اسی آمدن سے بمشکل پوری ہوتی ہیں تو چند برس بعد بعض افسران کے طرزِ زندگی میں غیرمعمولی تبدیلی کیسے آتی ہے؟ یہ کسی ایک افسر کے خلاف الزام نہیں بلکہ نظامِ احتساب کے لیے ایک بنیادی سوال ہے۔ سرکاری ملازم کی معلوم آمدن، اثاثوں، اخراجات اور طرزِ زندگی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو بہت سے سوالات کے جواب خود سامنے آسکتے ہیں۔ خصوصاً ان افراد کے معاملات کی شفاف جانچ ہونی چاہیے جن کے اثاثے ان کی معلوم آمدن سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ جائیدادیں اگر براہِ راست اپنے نام پر نہ ہوں تو قریبی رشتہ داروں یا دیگر متعلقہ افراد کے نام پر موجود اثاثوں کو بھی قانون کے مطابق جانچنے کا طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں ایک اور حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس اسٹیشن صرف کاغذ پر نہیں چلتا، اسے وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔ایک پولیس اسٹیشن کی گاڑی کو اگر روزانہ محدود مقدار میں سرکاری ایندھن ملتا ہے جبکہ پولیس کو دن رات ایمرجنسی 15 کالز، جرائم کی اطلاع، اشتہاریوں کی گرفتاری، ناکہ بندی، تفتیش اور دیگر کارروائیوں کے لیے مسلسل سفر کرنا پڑتا ہے لیکن یہ اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ کسی امام مسجد سرمایہ دار نے یہ اخراجات پورے نہیں کرنے ہمیشہ پیڈ کرائم سے یہ معاملات چلتے ہیں ایک یو ٹی اے ایس پی نے نائٹ پٹرولنگ کے دوران ہوٹل پر ریڈ کی جس میں تلہ گنگ کا ویٹر چھت سے گر کر ہلاک ہو گیا۔ ورثا نے پولیس افسر کے خلاف قتل کی درخواست دی سنئیر افسران کا حکم آیا کہ معاملہ حل کریں۔ ایس ایچ او نے تمام جسم فروشی کرانے والے ہوٹل گیسٹ ہاوسز فارم ہاوسز سے چند ماہ کا "حصہ” ایڈوانس دیکر ورثا کو خاموش کروا دیا بعدازاں ایس ایچ او اے ایس پی کو بچا کر خود پہلے معطل پھر ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا لیکن یہ افسر اب لاہور میں بطور ڈی ایس پی اپنے "فرائض” سرانجام دے رہا ہے۔ شہری علاقوں کے چھوٹے تھانوں سے لے کر بڑے تھانوں اور دور دراز دیہی علاقوں تک ایندھن کی ضرورت یکساں نہیں۔ اگر سرکاری وسائل ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہوں تو اہلکار یا تو اپنی جیب سے خرچ کرے گا یا پھر نظام میں غیر رسمی ذرائع پیدا ہوں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کرپشن کے راستے کھلنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کرپشن کے خاتمے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’رشوت مت لو‘‘۔ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ڈیوٹی کے لیے مطلوبہ وسائل کہاں سے آئیں گے؟ پولیس اہلکار 16، 18 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں، عید، تہوار اور خوشی کے مواقع پر اپنی فیملیز سے دور سڑکوں، تھانوں اور ناکوں پر موجود رہتے ہیں۔ بعض اہلکار جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شہید ہوتے ہیں۔ ناقص بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ جیسے حفاظتی سامان کے باوجود اہلکاروں کی شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ملازمت معمول کی سرکاری ڈیوٹی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نظام کی خامیوں اور اہلکاروں کے حقیقی مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔ اگر ماتحت افسر کو بنیادی وسائل، گاڑی کی مرمت، ایندھن، تفتیش اور روزمرہ ڈیوٹی کے لیے مناسب سہولت نہیں دی جائے گی تو صرف سخت احکامات سے کرپشن ختم نہیں ہوگی۔ دوسری طرف اعلی افسران کے ناجائز احکامات، مبینہ لین دین یا غیرقانونی ریکوری کے معاملات میں اگر ماتحت اہلکار بھی شریک پائے جائیں تو انہیں قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ لیکن احتساب کا اصول واضح ہونا چاہیے: جس سطح پر جرم ہو، اسی سطح پر کارروائی ہو؛ عہدہ کسی کو استثنیٰ نہ دے۔ پولیس ویلفیئر فنڈز اور دیگر سرکاری فنڈز بھی اسی شفافیت کے متقاضی ہیں۔ اگر کسی فنڈ کا مقصد ماتحت اہلکاروں کی فلاح ہے تو اس کے ایک ایک روپے کا حساب ہونا چاہیے۔ آزادانہ آڈٹ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور باقاعدہ نگرانی سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ رقم کہاں سے آئی، کہاں خرچ ہوئی اور اصل مستحق تک کتنی پہنچی۔ چوہنگ ٹریننگ سنٹر کے آڈٹ سے متعلق سامنے آنے والی مالی بے ضابطگیوں پر اعلی افسر کو او ایس ڈی کر دیا گیا لیکن پولیس کے دیگر اہم اداروں اور شعبہ جات کے مالی معاملات کا بھی بلاامتیاز آڈٹ کیا جائے۔ یہ سلسلہ پولیس ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی بجائے تمام محکموں کا آڈٹ ہو پولیس کو رشوت لیکر شائد کام بھی کر دیتی ہو لیکن محکمہ صحت میں غیر معیاری ادویات مریضوں کو خراب کر کے پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کے لئے مجبور کرنا یہ کرپشن نہیں انسانیت کا قتل عام تصور ہوگا۔ اس پر صرف انکوائریز نہیں فوری سزا بھی ہونی چاہئے۔ یہ نہیں کہ کتنے اہلکار پکڑے گئے بلکہ کتنے بڑے مالی معاملات کی تہہ تک پہنچا گیا؟ کرپشن کے خلاف حقیقی مہم کا امتحان چھوٹے اہلکار کی گرفتاری نہیں بلکہ اس وقت ہوگا جب کسی بااثر افسر، طاقتور شخصیت یا اہم عہدے دار کے خلاف بھی ثبوت سامنے آنے پر اسی رفتار سے کارروائی کی جائے گی۔اسی تناظر میں سابق آئی جی پنجاب ذوالفقار احمد چیمہ کا یہ مؤقف قابلِ غور ہے کہ احتساب اوپر سے شروع ہونا چاہیے۔ اگر حکومت اپنے دامن کو صاف رکھ کر کرپشن کے خلاف جنگ شروع کرے گی تو نیچے تک اس کا اثر جائے گا۔ لیکن اگر احتساب کا رخ صرف ماتحت اہلکاروں کی طرف رہے تو سوالات ختم نہیں ہوں گے۔ پوسٹنگز بھی پولیس کے نظام کا ایک حساس باب ہیں۔ بعض اوقات کسی عہدے کے لیے افسران کی دلچسپی، سفارشوں، پیغامات اور اندرونی کوششوں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ حالیہ دنوں ایس پی کینٹ کی پوسٹنگ کے حوالے لاہور کے ایک اعلی پولیس افسر اپنے ایک نڈر ایس پی کو کینٹ لانا چاہتے تھے لیکن دو خواتین ایس پیز نے انٹری ماری جو اس دوڑ سے آؤٹ ہوئی تب ایس پی سٹی عاطف امیر نے ایسا چھکا مارا کہ سب حیران رہ گئے آئی جی پنجاب نے عاطف امیر کے ایس پی کینٹ کے آرڈر کر دئیے اور انہوں نے چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا۔
”کرپشن، نچلی سطح پر خاتمہ؟ ٹریننگ سنٹر طرز تمام شعبوں کا آڈٹ کون کرائے گا؟ ہر دل کی آواز“


