تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
قدرت جب کسی خطے کو اپنے حسن سے نوازتی ہے تو وہاں پہاڑ صرف پہاڑ نہیں رہتے، سبزہ صرف سبزہ نہیں رہتا، چشمے محض پانی کی دھاریں نہیں رہتے بلکہ پوری وادی ایک حسین داستان بن جاتی ہے۔ دوبندو بھی ایسی ہی ایک دلکش داستان ہے، مگر بدقسمتی سے اس خوبصورت داستان کے صفحات طویل عرصے سے دہشت گردی، خوف اور شورش کے سیاہ دھبوں سے داغ دار ہیں۔
تحصیل دیر سٹی سے منسلک اور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دوبندو پہاڑوں کے دامن میں پھیلا ہوا ایک حسین علاقہ ہے۔ یہاں قدرت نے حسن کے خزانے دل کھول کر لٹائے ہیں۔ دور تک پھیلے بلند و بالا پہاڑ، ان پر بچھا سبز مخملی لباس، قدم قدم پر کھڑے تناور درخت، پہاڑوں کے سینوں سے پھوٹتے شفاف چشمے، بل کھاتی ندیاں اور نالے، لہلہاتے کھیت اور کھلے میدانوں میں بے فکری سے چرتے مال مویشی—یہ سب مل کر دوبندو کو ایک ایسے قدرتی شاہکار میں بدل دیتے ہیں جسے دیکھ کر آنکھ ٹھہر جاتی اور دل بے اختیار کہتا ہے کہ پاکستان واقعی قدرت کے حسین تحفوں سے مالامال ہے۔
صبح کے وقت جب سورج کی سنہری کرنیں پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے سبز پہاڑوں پر سونے کا رنگ پھیر دیا ہو۔ چشموں کا مدھم شور، پرندوں کی چہچہاہٹ، ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے اور کھیتوں میں مصروف کسان—دوبندو کی فطری زندگی اپنی ایک الگ ہی موسیقی رکھتی ہے۔
مگر اس حسین منظر کے پیچھے ایک خوفناک حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔
یہی خوبصورت پہاڑ، جو کبھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنتے ہیں، ایک عرصے تک دہشت گردوں کے مورچوں اور کمین گاہوں کے طور پر بھی استعمال ہوتے رہے۔ جہاں کبھی فطرت کی خاموشی تھی، وہاں گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ جہاں چشموں کا ترنم تھا، وہاں بارود کی بو نے ماحول کو سوگوار کیا۔ شورش، بدامنی، کارروائیاں اور آپریشنز نے اس جنت نما خطے کے مکینوں کی زندگیوں میں خوف کی ایک طویل رات ڈال دی۔
دوبندو کا علاقہ متعدد دیہات پر مشتمل ایک وسیع اور خوبصورت علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی زمین، پہاڑوں اور آبائی بستیوں سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ مگر دہشت گردی نے ان کے اس فطری سکون کو بارہا متاثر کیا۔ لوگ اپنے ہی گھروں اور کھیتوں میں خوف کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ بچوں کی ہنسی میں بھی کبھی کبھی انجانا خوف محسوس ہوتا رہا اور شام ڈھلتے ہی پہاڑوں کی خاموشی مزید پراسرار بن جاتی۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ جس خطے کو قدرت نے سیاحتی مرکز بننے کی تمام نعمتیں عطا کی ہیں، وہ بدامنی کے باعث آج بھی مکمل طور پر ایک محفوظ ٹورسٹ سپاٹ کا مقام حاصل نہیں کر سکا۔ اگر یہاں امن، سڑکیں، بنیادی سہولیات اور سیاحتی انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو ڈوگدرہ نہ صرف دیر بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوسکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبندو کو صرف ایک متاثرہ علاقے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے قدرتی حسن اور سیاحتی امکانات کو بھی اجاگر کیا جائے۔ امن و امان کی پائیداری کے ساتھ ساتھ سڑکوں، مواصلات، صحت، تعلیم اور سیاحت کی سہولیات پر توجہ دی جائے تو یہاں کے پہاڑ خوف کی علامت کے بجائے سیاحوں کی منزل بن سکتے ہیں۔
ڈوگدرہ کے پہاڑ آج بھی خاموش کھڑے ہیں۔ ان کی چوٹیوں پر سبزہ آج بھی لہلہاتا ہے، چشمے آج بھی بہتے ہیں، ندیاں آج بھی گنگناتی ہیں اور کھیت آج بھی فصلیں اگاتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ بارود کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو اور فطرت کی آواز دوبارہ سنائی دے۔
وہ دن ضرور آنا چاہیے جب دوبندو کا تعارف دہشت گردی کے مورچوں سے نہیں بلکہ اس کے چشموں، سرسبز پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور پُرامن لوگوں سے ہو۔
ڈوگدرہ کو جنگ نہیں، امن چاہیے؛ خوف نہیں، سیاحت چاہیے؛ اور بارود نہیں، بہتے چشموں کی موسیقی چاہیے۔



