Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

      اے یو اسمال فائنانس اور وجئے سیلس پر بڑا سائبر حملہ، کروڑوں صارفین کا ڈیٹا خطرے میں

      پاکستان کا ایک اور اعزاز "NUST” کے 45 محققین دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں کی فہرست میں شامل

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    دہشت گردی کے خونی پنجوں میں سسکتا دیربالا کا دلکش علاقہ دوبندو

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ریاض ابوالخیل

        جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    قدرت جب کسی خطے کو اپنے حسن سے نوازتی ہے تو وہاں پہاڑ صرف پہاڑ نہیں رہتے، سبزہ صرف سبزہ نہیں رہتا، چشمے محض پانی کی دھاریں نہیں رہتے بلکہ پوری وادی ایک حسین داستان بن جاتی ہے۔ دوبندو بھی ایسی ہی ایک دلکش داستان ہے، مگر بدقسمتی سے اس خوبصورت داستان کے صفحات طویل عرصے سے دہشت گردی، خوف اور شورش کے سیاہ دھبوں سے داغ دار ہیں۔
    تحصیل دیر سٹی سے منسلک اور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دوبندو پہاڑوں کے دامن میں پھیلا ہوا ایک حسین علاقہ ہے۔ یہاں قدرت نے حسن کے خزانے دل کھول کر لٹائے ہیں۔ دور تک پھیلے بلند و بالا پہاڑ، ان پر بچھا سبز مخملی لباس، قدم قدم پر کھڑے تناور درخت، پہاڑوں کے سینوں سے پھوٹتے شفاف چشمے، بل کھاتی ندیاں اور نالے، لہلہاتے کھیت اور کھلے میدانوں میں بے فکری سے چرتے مال مویشی—یہ سب مل کر دوبندو کو ایک ایسے قدرتی شاہکار میں بدل دیتے ہیں جسے دیکھ کر آنکھ ٹھہر جاتی اور دل بے اختیار کہتا ہے کہ پاکستان واقعی قدرت کے حسین تحفوں سے مالامال ہے۔
    صبح کے وقت جب سورج کی سنہری کرنیں پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے سبز پہاڑوں پر سونے کا رنگ پھیر دیا ہو۔ چشموں کا مدھم شور، پرندوں کی چہچہاہٹ، ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے اور کھیتوں میں مصروف کسان—دوبندو کی فطری زندگی اپنی ایک الگ ہی موسیقی رکھتی ہے۔
    مگر اس حسین منظر کے پیچھے ایک خوفناک حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔
    یہی خوبصورت پہاڑ، جو کبھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنتے ہیں، ایک عرصے تک دہشت گردوں کے مورچوں اور کمین گاہوں کے طور پر بھی استعمال ہوتے رہے۔ جہاں کبھی فطرت کی خاموشی تھی، وہاں گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ جہاں چشموں کا ترنم تھا، وہاں بارود کی بو نے ماحول کو سوگوار کیا۔ شورش، بدامنی، کارروائیاں اور آپریشنز نے اس جنت نما خطے کے مکینوں کی زندگیوں میں خوف کی ایک طویل رات ڈال دی۔
    دوبندو کا علاقہ متعدد دیہات پر مشتمل ایک وسیع اور خوبصورت علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی زمین، پہاڑوں اور آبائی بستیوں سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ مگر دہشت گردی نے ان کے اس فطری سکون کو بارہا متاثر کیا۔ لوگ اپنے ہی گھروں اور کھیتوں میں خوف کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ بچوں کی ہنسی میں بھی کبھی کبھی انجانا خوف محسوس ہوتا رہا اور شام ڈھلتے ہی پہاڑوں کی خاموشی مزید پراسرار بن جاتی۔
    ستم ظریفی دیکھیے کہ جس خطے کو قدرت نے سیاحتی مرکز بننے کی تمام نعمتیں عطا کی ہیں، وہ بدامنی کے باعث آج بھی مکمل طور پر ایک محفوظ ٹورسٹ سپاٹ کا مقام حاصل نہیں کر سکا۔ اگر یہاں امن، سڑکیں، بنیادی سہولیات اور سیاحتی انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو ڈوگدرہ نہ صرف دیر بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوسکتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبندو کو صرف ایک متاثرہ علاقے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے قدرتی حسن اور سیاحتی امکانات کو بھی اجاگر کیا جائے۔ امن و امان کی پائیداری کے ساتھ ساتھ سڑکوں، مواصلات، صحت، تعلیم اور سیاحت کی سہولیات پر توجہ دی جائے تو یہاں کے پہاڑ خوف کی علامت کے بجائے سیاحوں کی منزل بن سکتے ہیں۔
    ڈوگدرہ کے پہاڑ آج بھی خاموش کھڑے ہیں۔ ان کی چوٹیوں پر سبزہ آج بھی لہلہاتا ہے، چشمے آج بھی بہتے ہیں، ندیاں آج بھی گنگناتی ہیں اور کھیت آج بھی فصلیں اگاتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ بارود کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو اور فطرت کی آواز دوبارہ سنائی دے۔
    وہ دن ضرور آنا چاہیے جب دوبندو کا تعارف دہشت گردی کے مورچوں سے نہیں بلکہ اس کے چشموں، سرسبز پہاڑوں، خوبصورت وادیوں اور پُرامن لوگوں سے ہو۔
    ڈوگدرہ کو جنگ نہیں، امن چاہیے؛ خوف نہیں، سیاحت چاہیے؛ اور بارود نہیں، بہتے چشموں کی موسیقی چاہیے۔

    Related Posts

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مقبول خبریں

    راجپوت اتحاد پاکستان: سکھر سے نعیم اختر راجپوت صدر اور عبد الرحمان راجپوت جنرل سیکرٹری منتخب

    سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کا تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر تیسرے روز بھی دھرنا جاری

    وفاقی کابینہ کا بڑا فیصلہ: کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کی منظوری، 10 روپے کا نوٹ ختم کر کے سکہ لانے کا اعلان

    عنوان: آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ لیگ ٹو: متحدہ عرب امارات نے عمان کو 42 رنز سے شکست دیدی

    سیالکوٹ: سیشن عدالت کا بڑا فیصلہ، قتل میں ملوث ملزم کو عمر قید اور جرمانے کی سزا

    بلاگ

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    مذہبی اصولوں کے دعوے سے سیاسی مفاہمت تک

    مسٹر پتلو کی شادی یا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کا تماشا؟

    ’’گزرے کل سے آگے ماضی کے افسوس سے نکل کر حال کو جینے اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہونے کا نام زندگی’’

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.