اسلام آباد:مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) نے دنیا بھر کے ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے آمدنی کا ایک بالکل نیا اور انقلابی نظام نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد پلیٹ فارم سے چوری شدہ، غیر معیاری اور کاپی پیسٹ مواد کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
ایکس انتظامیہ کی جانب سے کریئیٹرز کو ارسال کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس نئے فارمولے کو ’اوریجنل کنٹینٹ ریوارڈز پروگرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس اہم تبدیلی کے تحت پرانا ’ایڈز ریوینیو شیئرنگ‘ پروگرام سات ستمبر 2026 کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کے تحت آخری ادائگی 11 ستمبر کو کی جائے گی۔ نئے پروگرام کے لیے درخواستیں آٹھ ستمبر سے وصول کی جارہی ہیں، اور وہ صارفین جن کی آئی ڈی ویریفیکیشن اور پے آؤٹ کے طریقے پہلے سے جڑے ہوئے ہیں، وہ اپنے کریئیٹر سٹوڈیو میں جا کر فوری طور پر اپنی اہلیت چیک کر سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں جب سے ایکس پر مونیٹائزیشن کا عمل شروع ہوا تھا، تب سے پلیٹ فارم پر ایک نیا رجحان پروان چڑھا تھا۔ ریوینیو کی اس دوڑ میں متعدد اکاؤنٹس نے دیگر پلیٹ فارمز (جیسے ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام) سے وائرل ویڈیوز اٹھا کر دڑا دھڑ اپ لوڈ کرنا شروع کر دی تھیں، یہاں تک کہ کچھ صارفین نے ٹی وی چینلز کی لائیو نشریات کے کلپس کاٹنے کے لیے باقاعدہ ٹیمیں بھی رکھ لی تھیں۔ اس عمل نے ایکس کی فیڈ کو غیر مصدقہ اور نقل شدہ مواد سے بھر دیا تھا۔
سوشل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکس کا یہ سخت قدم ان تمام عناصر کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے جو بغیر کسی محنت کے دوسروں کی تخلیقات اور ویڈیوز چروا کر ڈالرز کما رہے تھے۔ کمپنی کا واضح مؤقف ہے کہ پلیٹ فارم کی اصل طاقت وہ تخلیق کار ہیں جو بریکنگ نیوز، ماہرانہ تجزیے اور اپنے ذاتی تجربات پر مبنی خالص مواد پیش کرتے ہیں، اور اب نئے نظام سے صرف حقیقی محنت کرنے والے کریئیٹرز ہی مالی طور پر مستفید ہو سکیں گے۔
کاپی پیسٹ کرنے والوں کی شامت آ گئی! ’ایکس‘ نے کمائی کا نیا اور سخت نظام متعارف کرا دیا

