تحریر:محمداشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جنگِ چونڈہ 1965 کی مکمل سٹوری
اسے "Battle of Chawinda” بھی کہتے ہیں۔ یہ ستمبر 1965 کی سب سے بڑی اور سب سے اہم ٹینکوں کی لڑائی تھی۔
### 1. پسِ منظر
آپریشن گرینڈ سلیم کے بعد جب پاک فوج چھمب میں آگے بڑھی تو بھارت نے پلان بنایا کہ وہ لاہور پر حملہ کر کے پاک فوج کی توجہ ہٹائے گا۔
8 ستمبر 1965 کو بھارت کے 1 آرمرڈ ڈویژن اور 6 انفنٹری ڈویژن نے سیالکوٹ کے علاقے "چونڈہ” پر زبردست حملہ کر دیا۔
مقصد: سیالکوٹ پر قبضہ کر کے جی ٹی روڈ کاٹ دینا۔
### 2. لڑائی کیسے شروع ہوئی؟
بھارت کے پاس 200 سے زیادہ جدید "سینچورین” ٹینک تھے۔
پاکستان کے پاس "پٹن M-48” ٹینک تھے اور تعداد میں کم تھے۔
14 ستمبر سے 21 ستمبر تک 8 دن تک مسلسل لڑائی ہوئی۔ میدان میں 400 سے زیادہ ٹینک آمنے سامنے تھے۔
دنیا میں دوسری جنگ عظیم کے "Battle of Kursk” کے بعد یہ سب سے بڑی ٹینک جنگ تھی۔
### 3. پاک فوج نے دفاع کیسے کیا؟
1. ہیرو: میجر عزیز بھٹی شہید
چونڈہ کے قریب "برکی” سیکٹر میں انہوں نے 5 دن تک دشمن کو روکے رکھا۔ گولہ لگنے سے شہید ہو گئے۔ بعد میں انہیں "نشانِ حیدر” ملا۔
2. فضائیہ کا کردار
پاک فضائیہ کے پائلٹ ایم ایم عالم اور دوسروں نے بھارتی ٹینکوں پر راکٹ مارے۔ بہت سے ٹینک تباہ ہوئے۔
3. عوام کا ساتھ
سیالکوٹ کے لوگوں نے فوج کو کھانا، پانی اور معلومات دیں۔
### 4. نتیجہ کیا نکلا؟
بھارت اپنا مقصد پورا نہ کر سکا۔ وہ چونڈہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔
22 ستمبر کو جنگ بندی ہو گئی۔
نقصان:
– بھارت کے 120 سے زیادہ ٹینک تباہ ہوئے
– پاکستان کے 40 سے کم ٹینک تباہ ہوئے
اس لیے فوجی ماہرین اسے "پاکستان کی دفاعی فتح” مانتے ہیں۔
### 5. اہمیت
جنگِ چونڈہ نے ثابت کر دیا کہ تعداد کم ہونے کے باوجود جذبے اور حکمتِ عملی سے بڑی فوج کو روکا جا سکتا ہے۔
آج بھی پاک فوج میں "چونڈہ کے شیر” کے طور پر اس لڑائی کو یاد کیا جاتا ہے۔
—
خلاصہ: چونڈہ کی جنگ ہمت، قربانی اور دفاع کی علامت بن گئی۔
کیا آپ چاہتے ہیں میں اس جنگ کی بھی ایک تصویر بنا دوں؟
جیسے "ٹینکوں کی لڑائی” والا سین یا "میجر عزیز بھٹی شہید” والا منظر؟


